امریکا میں خصوصی تعلیم کی ذمہ داری محکمہ صحت کو منتقل، والدین میں تشویش
نیویارک (نیوزڈیسک)امریکی حکومت نے خصوصی ضروریات رکھنے والے بچوں کی تعلیم سے متعلق وفاقی ذمہ داریاں محکمہ تعلیم سے محکمہ صحت و انسانی خدمات کو منتقل کردی ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے غیر ضروری دفتری کارروائی کم ہوگی اور خصوصی تعلیم کے پروگرامز میں بہتری آئے گی، تاہم والدین اور حقوقِ معذوراں کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے خدشات کا اظہار کیا ہے۔
امریکا میں 80 لاکھ سے زائد خصوصی ضروریات رکھنے والے بچے نئے تعلیمی سال کا آغاز ایسے نظام کے تحت کر رہے ہیں جہاں انہیں سرکاری اسکولوں میں تعلیم کے قانونی حقوق حاصل ہیں اور وفاقی فنڈنگ بھی فراہم کی جاتی ہے۔ٹرمپ انتظامیہ نے خصوصی تعلیم سے متعلق وفاقی ذمہ داریوں کو محکمہ تعلیم سے محکمہ صحت و انسانی خدمات کو منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ اس تبدیلی سے بیوروکریسی کم ہوگی، وسائل کا بہتر استعمال ممکن ہوگا اور خصوصی ضروریات رکھنے والے بچوں کو تعلیمی پروگرامز تک رسائی اور خودمختاری حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔تاہم والدین اور معذور افراد کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کو خدشہ ہے کہ اس منتقلی کے نتیجے میں بچوں کے تعلیمی حقوق کے تحفظ کے لیے وفاقی نگرانی اور جواب دہی کمزور ہوسکتی ہے۔یہ ذمہ داریاں 1975 میں منظور کیے گئے قانون، انفرادی تعلیمی حقوق سے متعلق قانون کے تحت خصوصی اہمیت رکھتی ہیں۔ اس قانون سے پہلے بڑی تعداد میں معذور بچوں کو مناسب تعلیمی سہولیات اور اسکولوں تک مساوی رسائی حاصل نہیں تھی۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ نئی پالیسی کے نتیجے میں والدین کو اپنے بچوں کے لیے تعلیمی جائزوں، خصوصی سہولیات اور انفرادی تعلیمی منصوبوں کے حصول میں مزید مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے۔دوسری جانب پالیسی کے حامیوں کا کہنا ہے کہ محکمہ صحت و انسانی خدمات کی مہارت سے خصوصی ضروریات رکھنے والے بچوں اور ان کے خاندانوں کو بہتر سہولیات فراہم کی جاسکتی ہیں۔
امریکی حکومت کے مطابق آئی ڈی ای اے اور دیگر وفاقی قوانین کے تحت طلبہ کے حقوق کا تحفظ جاری رہے گا۔ مالی منصوبے میں خصوصی تعلیم کے پروگرامز کے لیے تقریباً16 بلین ڈالرجبکہ گزشتہ منصوبے کے مقابلے میں539 ملین ڈالراضافی فنڈنگ کی تجویز دی گئی ہے۔