نیویارک میں اقوام متحدہ کے باہر کشمیری کمیونٹی کا احتجاج
نیو یارک (نیوزڈیسک)میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹرز کے باہر ورلڈ کشمیر اویئرنس فورم اور نیویارک و واشنگٹن میٹروپولیٹن علاقوں کی کشمیری امریکی کمیونٹیز کے زیر اہتمام احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، جس میں کشمیری، پاکستانی اور دیگر کمیونٹی نمائندوں سمیت خواتین، بچوں اور بزرگوں نے شرکت کی۔
نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر کے باہر کشمیری اور پاکستانی نژاد امریکی کمیونٹی نے کشمیر کے مسئلے پر احتجاج کیا گیا۔ مظاہرے کے شرکاء نے مختلف پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے، جن پر کشمیر میں انسانی حقوق اور سیاسی حقوق سے متعلق مطالبات درج تھے۔مظاہرے میں خواتین، بچوں، بزرگوں اور کمیونٹی رہنماؤں سمیت بڑی تعداد میں افراد شریک ہوئے۔مظاہرین نے آکال ٹو دا یونائیٹڈ نیشنزکے عنوان سے احتجاج کرتے ہوئے اقوام متحدہ سے کشمیر سے متعلق اپنی قراردادوں اور کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے معاملے پر توجہ دینے کا مطالبہ کیا۔
اس موقع پر کشمیری رہنما سردار سوار خان، تاج خان اور سردار امتیاز نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ کشمیر کے مسئلے کے حل کے لیے اس کی متعلقہ قراردادوں اور بین الاقوامی اصولوں کو مدنظر رکھا جائے اور خطے میں انسانی حقوق کی صورتحال پر عالمی سطح پر توجہ دی جائے۔احتجاج میں پیپلز پارٹی امریکہ کے صدر خالد اعوان اور مسلم لیگ ن کے رہنما راجہ رزاق بھی موجود تھے۔مقررین نے اقوام متحدہ کو 78 سال پرانے تنازع اور کشمیری عوام سے کیے گئے وعدے پورے کرنے کی یاد دہانی کا مطالبہ بھی کیا
مظاہرے میں شریک دیگر رہنماؤں نے بھی مقبوضہ وادی کے عوام کی قربانیوں کو خراجِ تحسین اور عالمی برادری کی خاموشی پر اظہارِ تشویش کیا۔اقوام متحدہ کے سامنے احتجاجی مظاہرے کا اختتام مقبوضہ کشمیر کی آزادی اور شہدائے کشمیر کے درجات کی بلندی کے لیے خصوصی دعا کے ساتھ ہوا۔