vosa.tv
Voice of South Asia!

ٹرمپ کا کانگریس سے منظور شدہ تقریباً ایک ارب ڈالر کی امدادی فنڈنگ منسوخ کرنے کا اعلان

0

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کانگریس سے منظور شدہ تقریباً ایک ارب ڈالر کی فنڈنگ منسوخ کردی، جس میں زیادہ تر رقم تارکین وطن کیلئے امدادی خدمات اور تنوع پر مبنی پروگراموں کیلئے مختص تھی۔

 وائٹ ہاؤس کے آفس آف مینجمنٹ اینڈ بجٹ کے مطابق یہ فنڈنگ کٹوتی "انتہائی نقصان دہ سرکاری اخراجات” کو ختم کرنے کیلئے کی گئی۔ اعلامیے کے مطابق زیادہ تر کٹوتیاں ایسے غیرمنافع بخش اداروں پر لاگو ہوں گی جو پناہ گزینوں اور غیرقانونی طور پر ملک میں مقیم غیرہمراہ نابالغوں کو خدمات فراہم کرتے ہیں۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ غیرقانونی سرحدی نقل و حرکت میں نمایاں کمی کے باعث یہ فنڈز اب ضروری نہیں رہے۔ ری پبلکن سینیٹر سوزن کولنز، جو سینیٹ اپروپری ایشنز کمیٹی کی سربراہ ہیں، نے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائی بغیر کسی مشاورت یا اطلاع کے کی گئی، اور یہ کانگریس کے اختیارات پر قبضے کے مترادف ہے۔ کولنز کے مطابق بجٹ کا ادارہ انتظامی شاخ کا حصہ ہے اور اسے یہ فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں کہ کون سا پروگرام فنڈنگ کے قابل ہے۔ ڈیموکریٹک سینیٹر پیٹی مرے نے اس اقدام کو عوام کی رقم کی چوری قرار دیا اور کہا کہ یہ فنڈز کانگریس نے دو طرفہ حمایت سے منظور کیے تھے۔ رپورٹ کے مطابق عام طور پر کانگریس صدر کی تجویز کردہ کٹوتیوں کا جائزہ لے سکتی ہے، تاہم ٹرمپ نے مالی سال ختم ہونے میں صرف پانچ دن باقی رہ جانے پر یہ اعلان کیا، جس سے یہ عمل ناممکن ہوگیا۔ گورنمنٹ اکاؤنٹیبلٹی آفس اس طریقہ کار کو غیرقانونی قرار دے چکا ہے، جسے "پاکٹ ریسیشن” کہا جاتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایک سال قبل بھی ٹرمپ نے اسی طریقے سے 4 ارب 90 کروڑ ڈالر کی غیرملکی امداد روکی تھی، جسے امریکی سپریم کورٹ نے چیلنج نہیں کیا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.