خالصتان کے ساتھ کشمیربھی آزاد کرائیں گے، گرپتونت سنگھ پنوں
نیویارک(نیوزڈیسک)خالصتان تحریک اور سکھ فارجسٹس کےسرکردہ رہنما گرپتونت سنگھ پنوں نے کہا ہے کہ اگلے بیس سال میں بھارت کا نقشہ بدل جائے گا، ہندوستان کے نو ٹکڑے کریں گے،جس دن پنجاب کو بھارتی تسلط سے آزادی مل گئی،اسی روز کشمیر بھی آزاد ہوجائے گا۔
نیویارک میں پریس کانفرنس کرتے ہوئےسکھ فار جسٹس کے سرکردہ رہنما گرپتونت سنگھ پنوں کاکہنا تھا کہ دنیا میں بھارت کی اصل پہچان دہشت گردی کا فروغ ہے،پاکستان میں امن دشمنوں کی پشت پناہی میں بھی بھارت ملوث ہے۔صحافیوں کے سوالوں کے جواب میں گرپتونت سنگھ پنوں کا کہنا تھا کہ ہمارا پیغام واضح ہے کہ آزادی کے بغیرامن نہیں ہوسکتا، ہماری جدوجہد مذہبی نہیں بلکہ خالصتاً سیاسی تحریک ہے ۔
انہوں نےمزید کہاکہ سکھ گولی چلانا نہیں بھولے لیکن اب سکھوں نے بیلٹ اور ووٹ کی طاقت کو اپنا ہتھیار بنالیا ہے۔ خالصتان ریفرنڈم کا اگلا مرحلہ کینیڈا کے شہر ایڈ مونٹن میں 18 اکتوبر کو منعقد ہوگا۔ایک سوال کے جواب میں سکھ رہنما کا کہنا تھا کہ بھارت چاہتا ہے کہ سکھ قوم کی اپنی کوئی شناخت نہ ہو اور دنیا ہمیں ہندو مذہب کا ہی حصہ سمجھے، انھوں نے الزام عائد کیا کہ بھارتی وزیر ِ داخلہ امیت شاہ انتہا پسند ہندو توانظریات کے پھیلاواورمنشیات مافیا کی سرپرستی میں ملوث ہیں ۔گزشتہ بارہ سالوں میں 9 ہزار سکھ نوجوان مارے جاچکے ہیں ۔
قبل ازیں گرپتونت سنگھ پنوں نےصحافیوں کو بتایا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر،رکن ممالک اور سیکرٹری جنرل کو ایک جامع قانونی یادداشت ارسال کردی گئی ہے۔اس درخواست میں عالمی برادری سے مداخلت کا مطالبہ کیا گیا ہے وہ بھارتی پنجاب کو ایک مقبوضہ علاقہ تسلیم کریں اور سکھ برادری کے حقِ خودارادیت کی حمایت کریں۔