امریکی صدر ٹرمپ نے پاکستان اور دیگر اتحادی ممالک کی درخواست پر آبنائے ہرمز میں جاری فوجی آپریشن ’پروجیکٹ فریڈم‘ کو عارضی طور پر روکنے کا اعلان کر دیا ہے۔
انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کی راہ ہموار کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔صدر ٹرمپ کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان اس بات پر اتفاق ہوا ہے کہ فی الحال فوجی آپریشن کو روک کر سفارتی امکانات کا جائزہ لیا جائے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ جب تک کوئی باضابطہ معاہدہ طے نہیں پاتا، آبنائے ہرمز میں امریکی ناکہ بندی بدستور برقرار رہے گی۔اوول آفس میں گفتگو کے دوران صدر ٹرمپ نے ایران پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ تہران کو ہتھیار ڈال دینے چاہئیں، اگرچہ انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ ایران ایسا نہیں کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران بظاہر سخت مؤقف اختیار کیے ہوئے ہے لیکن درپردہ معاہدہ کرنے کا خواہاں ہے۔دوسری جانب ایرانی صدر نے امریکی مطالبات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایران کسی دباؤ میں نہیں آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان صرف اللہ کے سامنے سر جھکاتے ہیں اور کسی دوسری طاقت کے آگے نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ طاقت کے استعمال کی دھمکیاں واپس لی جائیں کیونکہ اخلاق کے بغیر طاقت بے معنی ہے۔خطے میں اس وقت صورتحال پیچیدہ ہے جہاں ایک جانب مذاکرات کی امید پیدا ہو رہی ہے تو دوسری جانب سخت بیانات اور سمندری ناکہ بندی کشیدگی کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔