امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف شروع ہونے والی جنگ کو 100 دن مکمل ہو چکے ہیں، جس کے اثرات اب امریکی معیشت اور عام شہریوں کی روزمرہ زندگی پر نمایاں طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔
قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق اس تنازع کے باعث امریکی گھرانوں کے ماہانہ اخراجات میں اوسطاً 750 ڈالر تک اضافہ ہو چکا ہے، جس کا سب سے زیادہ دباؤ متوسط اور کم آمدنی طبقے پر پڑا ہے۔رپورٹس کے مطابق جنگ کے آغاز کے بعد عالمی توانائی منڈیوں میں عدم استحکام پیدا ہوا، جس کے نتیجے میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ ایران کی جانب سے خطے میں توانائی تنصیبات اور آبنائے ہرمز سے تجارتی سرگرمیوں پر اثرات کے بعد سپلائی چین بھی متاثر ہوئی، جس نے مہنگائی کی مجموعی شرح کو مزید بڑھا دیا۔معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف ایندھن ہی نہیں بلکہ خوراک، ٹرانسپورٹ اور رہائشی اخراجات بھی بڑھ رہے ہیں۔ امریکی اعداد و شمار کے مطابق پٹرول کی قیمتیں جنگ سے قبل کے مقابلے میں نمایاں حد تک بڑھ چکی ہیں جبکہ مہنگائی کی شرح بھی مسلسل اوپر جا رہی ہے، جس کے باعث صارفین کا اعتماد کمزور ہوا ہے اور گھریلو اخراجات میں کمی کا رجحان بڑھا ہے۔رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے اثرات فضائی کمپنیوں، زرعی شعبے اور ہاؤسنگ مارکیٹ تک پہنچ چکے ہیں۔ ماہرین کے مطابق جب تک خطے میں کشیدگی کم نہیں ہوتی، توانائی کی قیمتیں اور اس کے نتیجے میں عالمی معیشت پر دباؤ برقرار رہنے کا امکان ہے، جس سے عام صارفین مزید مالی مشکلات کا شکار ہو سکتے ہیں۔