امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے بعد امن معاہدے کی متعدد کوششوں کے باوجود دونوں ممالک اب تک کسی حتمی ڈیل تک نہیں پہنچ سکے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق جنگ کے آغاز کے بعد سے کئی مواقع ایسے آئے جب فریقین معاہدے کے قریب دکھائی دیے، تاہم بنیادی اختلافات ہر بار پیش رفت میں رکاوٹ بنے رہے۔
رپورٹ کے مطابق 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ میں امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ کارروائیوں کے بعد خطے میں شدید کشیدگی پیدا ہوئی، جس کے جواب میں ایران نے اسرائیل اور خطے میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ بعد ازاں پاکستان کی ثالثی سے 8 اپریل کو جنگ بندی طے پائی، تاہم براہ راست مذاکرات میں پیش رفت نہ ہو سکی۔مذاکرات کے دوران سب سے بڑا اختلاف ایران کے جوہری پروگرام اور افزودہ یورینیم کے ذخائر پر سامنے آیا۔ امریکا نے ایران سے بڑے پیمانے پر یورینیم کے ذخائر کی حوالگی کا مطالبہ کیا، جبکہ ایران نے اپنے پروگرام کو پرامن اور خودمختار قرار دیتے ہوئے اس شرط کو مسترد کر دیا۔ اسی طرح لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں اور پابندیوں کے خاتمے جیسے معاملات بھی اہم رکاوٹیں بنے رہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق اس تنازع میں اب جوہری پروگرام کے ساتھ ساتھ آبنائے ہرمز کے کنٹرول اور بحری تجارت بھی مرکزی مذاکراتی مسئلہ بن چکا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ کئی بار فریقین معاہدے کے قریب پہنچے، لیکن چند بنیادی اختلافات اب تک کسی بھی حتمی معاہدے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ثابت ہو رہے ہیں۔