امریکی ریاست نیویارک کے علاقے بروکلین سے تعلق رکھنے والی ٹیکس تیار کرنے والی خاتون کو کووڈ ریلیف ٹیکس کریڈٹ فراڈ اسکیم میں ملوث ہونے پر 36 ماہ قید کی سزا سنا دی گئی۔
امریکی محکمہ انصاف کے مطابق خاتون نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر 60 کروڑ ڈالر سے زائد مالیت کے جعلی ٹیکس کریڈٹس حاصل کرنے کی کوشش کی۔عدالتی دستاویزات کے مطابق 43 سالہ ٹفنی ولیمز نے نومبر 2021 سے جون 2023 کے دوران ہزاروں جعلی ٹیکس ریٹرنز جمع کروائیں، جن میں “ایمپلوئی ریٹینشن کریڈٹ” اور “پیڈ سک اینڈ فیملی لیو کریڈٹ” کے تحت فراڈ کیا گیا۔ یہ دونوں سہولیات امریکی کانگریس نے کووڈ وبا کے دوران مالی مشکلات کا شکار کاروباروں کی مدد کے لیے متعارف کرائی تھیں۔حکام کے مطابق ملزمان نے 8 ہزار سے زائد جعلی درخواستیں جمع کروائیں اور مجموعی طور پر 60 کروڑ ڈالر سے زیادہ رقم کے ٹیکس کریڈٹس حاصل کرنے کی کوشش کی، جبکہ امریکی حکومت کو تقریباً 4 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کا نقصان پہنچا۔ ٹفنی ولیمز اس سے قبل وائر فراڈ کے ایک مقدمے میں جرم قبول بھی کر چکی تھیں۔