vosa.tv
Voice of South Asia!

امریکا میں 12 افراد کی شہریت منسوخ کرنے کی کارروائی

0

امریکی محکمہ انصاف اور یو ایس سٹیزن شپ اینڈ امیگریشن سروس (USCIS) نے دہشت گردی کی معاونت، جنگی جرائم، جاسوسی، جنسی زیادتی، فراڈ اور دیگر سنگین الزامات میں ملوث 12 افراد کی امریکی شہریت منسوخ کرنے کے لیے مختلف عدالتوں میں قانونی کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق ان افراد نے شہریت حاصل کرتے وقت اہم حقائق چھپائے یا غلط معلومات فراہم کیں۔

محکمہ انصاف کے مطابق عراق سے تعلق رکھنے والے علی یوسف احمد النوری پر القاعدہ کے رکن کے طور پر 2006 میں دو عراقی پولیس اہلکاروں کے قتل کا الزام ہے، جبکہ مراکش کے خالد الوزانی پر القاعدہ کو مالی معاونت فراہم کرنے اور دہشت گرد تنظیم سے وفاداری کا حلف لینے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ صومالیہ کے صلاح عثمان احمد پر الشباب میں شمولیت اور دہشت گردوں کی مدد کرنے کے الزامات ہیں۔امریکی حکام نے کولمبیا سے تعلق رکھنے والے ایک کیتھولک پادری آسکر البرٹو پیلیز کے خلاف بھی کارروائی شروع کی ہے، جس پر کم عمر بچے کے ساتھ متعدد بار جنسی زیادتی کے الزامات ہیں۔ اسی طرح گیمبیا کے بابوکار مبوب پر 1994 میں بغیر ٹرائل چھ فوجی افسران کے قتل میں ملوث ہونے کا الزام لگایا گیا ہے، جسے امریکی حکام جنگی جرم قرار دے رہے ہیں۔دیگر مقدمات میں اسلحہ اسمگلنگ، جعلی شادیوں کے ذریعے امیگریشن فراڈ، مالی دھوکہ دہی، جھوٹی شناخت استعمال کرنے اور کیوبا کے لیے جاسوسی جیسے الزامات شامل ہیں۔ امریکی محکمہ انصاف کے مطابق ان افراد نے شہریت حاصل کرنے کے دوران اپنے جرائم، جعلی شناخت یا غیر قانونی سرگرمیوں کو چھپایا۔حکام کا کہنا ہے کہ امریکی قانون کے تحت اگر کوئی شخص جھوٹ، دھوکہ دہی یا اہم معلومات چھپا کر شہریت حاصل کرے تو اس کی شہریت منسوخ کی جا سکتی ہے۔ محکمہ انصاف نے واضح کیا کہ عدالتوں میں دائر تمام مقدمات ابھی الزامات کی حد تک ہیں اور حتمی فیصلہ عدالتی کارروائی کے بعد کیا جائے گا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.