vosa.tv
Voice of South Asia!

امریکا اب تارکینِ وطن کو خوش آمدید کہنے والا ملک نہیں رہا، سروے میں انکشاف

0

امریکا میں ایک نئے سروے کے مطابق شہریوں کی بڑی تعداد کا ماننا ہے کہ ملک اب تارکینِ وطن کو خوش آمدید کہنے والا ملک نہیں رہا۔ 

ایسوسی ایٹڈ پریس اور NORC کے مشترکہ سروے میں تقریباً 60 فیصد افراد نے کہا کہ امریکا ماضی میں تارکینِ وطن کے لیے بہترین جگہ تھا، مگر اب ایسا نہیں رہا۔رپورٹ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سخت امیگریشن پالیسیوں اور بڑے پیمانے پر گرفتاریوں کے باعث عوامی رائے میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ تقریباً ایک تہائی افراد نے کہا کہ گزشتہ ایک سال میں وہ خود یا ان کے جاننے والے اس کریک ڈاؤن سے متاثر ہوئے، جبکہ ہسپانوی نژاد افراد میں یہ شرح تقریباً 60 فیصد تک پہنچ گئی۔سروے میں یہ بھی سامنے آیا کہ ہسپانوی نژاد افراد میں سے تقریباً نصف اب اپنی شہریت یا قانونی حیثیت کے ثبوت ساتھ رکھنے لگے ہیں کیونکہ انہیں حراست یا ملک بدری کا خدشہ ہے۔ مجموعی طور پر صرف ایک چوتھائی امریکی اب بھی سمجھتے ہیں کہ امریکا تارکینِ وطن کے لیے خوش آمدیدی ملک ہے، جبکہ کچھ افراد کا کہنا ہے کہ امریکا کبھی بھی ایسا نہیں تھا۔شہریت کے قانون سے متعلق سوال پر عوام کی رائے منقسم رہی۔ تقریباً 65 فیصد افراد نے کہا کہ امریکا میں پیدا ہونے والے ہر بچے کو شہریت ملنی چاہیے، جبکہ غیر قانونی طور پر مقیم والدین کے بچوں کے لیے یہ شرح 49 فیصد رہی۔ ماہرین کے مطابق سخت امیگریشن اقدامات اور خوف کی فضا نے نہ صرف تارکینِ وطن بلکہ امریکی معاشرے پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.