امریکی وفاقی عدالت نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ہائی اسکلڈ غیر ملکی ورکرز کے لیے H-1B ویزا فیس میں کی گئی بڑی اضافے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اسے کالعدم قرار دے دیا ہے۔
یہ فیصلہ امریکی ڈسٹرکٹ جج لیو سوروکن نے سنایا، جو بوسٹن میں دائر اس مقدمے پر دیا گیا جس میں 20 ڈیموکریٹک ریاستی اٹارنی جنرلز نے ٹرمپ انتظامیہ کے اس اقدام کو چیلنج کیا تھا۔ ٹرمپ نے گزشتہ سال ایک ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے H-1B ویزا کی فیس بڑھا کر 100,000 ڈالر کر دی تھی، جس پر شدید سیاسی اور قانونی بحث جاری تھی۔عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ یہ فیس قانونی اختیار سے تجاوز ہے اور اسے نافذ نہیں کیا جا سکتا۔ اس فیصلے کے بعد H-1B ویزا پالیسی پر ایک بڑا قانونی موڑ سامنے آیا ہے، جو خاص طور پر ٹیکنالوجی اور دیگر ہائی اسکلڈ شعبوں میں کام کرنے والے غیر ملکی ورکرز کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے۔واضح رہے کہ H-1B ویزا امریکا میں کمپنیوں کو غیر ملکی ماہرین کی بھرتی کی اجازت دیتا ہے، اور اس پالیسی میں کسی بھی بڑی تبدیلی کا اثر براہِ راست ٹیک انڈسٹری اور لیبر مارکیٹ پر پڑتا ہے۔