اسرائیلی وزیراعظم نے غزہ کے 70 فیصد علاقے پر قبضہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج کو مرحلہ وار کارروائی کے ذریعے مزید علاقوں پر کنٹرول حاصل کرنے کی ہدایت دے دی گئی ہے۔ امریکی حمایت کے بعد اسرائیلی حکومت کی جارحانہ پالیسی میں مزید شدت دیکھی جا رہی ہے، جبکہ خطے میں انسانی بحران کے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق نیتن یاہو نے مقبوضہ مغربی کنارے میں ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی فوج اس وقت غزہ کے تقریباً 60 فیصد حصے میں موجود ہے، جبکہ اگلا ہدف 70 فیصد علاقے پر کنٹرول حاصل کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حماس پر دباؤ بڑھانے کے لیے فوجی کارروائیاں تیز کی جا رہی ہیں۔رپورٹس کے مطابق کانفرنس کے دوران بعض شرکاء نے پورے غزہ پر قبضے کے نعرے بھی لگائے۔ اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری کردہ نقشوں کے مطابق اپریل کے آخر تک غزہ کے تقریباً 64 فیصد علاقے پر اسرائیلی فورسز کا کنٹرول بتایا گیا تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مزید پیش قدمی کی صورت میں لاکھوں فلسطینیوں کو ایک بار پھر بے دخلی اور شدید انسانی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب حماس نے اسرائیلی اقدامات کو جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ اسرائیل غزہ میں زمینی حقائق تبدیل کرنے اور فوجی کنٹرول مضبوط کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ حماس کے مطابق ان اقدامات سے کشیدگی کم کرنے کی تمام کوششیں متاثر ہو سکتی ہیں۔