امریکیوں میں دوہری شہریت کا بڑھتا رجحان
کینیڈا کے نئے شہریت قوانین کے بعد لاکھوں امریکی شہریوں کے لیے کینیڈین شہریت حاصل کرنا پہلے سے کہیں زیادہ آسان ہو گیا ہے، جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں لوگ دوہری شہریت کے لیے درخواستیں جمع کروا رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق 15 دسمبر 2025 سے نافذ ہونے والی نئی قانون سازی نے اس عمل کو نمایاں طور پر آسان بنا دیا ہے۔نئے قانون کے تحت اب وہ افراد بھی کینیڈین شہریت کے اہل قرار دیے جا رہے ہیں جن کے دادا، پردادا یا اس سے بھی پہلے کے آباؤ اجداد کینیڈا سے تعلق رکھتے ہوں۔ اس سے قبل شہریت صرف ایک نسل تک محدود تھی، یعنی والدین سے بچوں تک منتقل ہوتی تھی۔ تاہم اب اہل افراد کو صرف اپنی نسبت ثابت کرنا ہوگی تاکہ انہیں شہریت کا سرٹیفکیٹ جاری کیا جا سکے۔امیگریشن وکلا کے مطابق اس قانون کے بعد امریکا اور کینیڈا میں درخواستوں کا دباؤ بڑھ گیا ہے اور روزانہ درجنوں افراد مشاورت کے لیے رابطہ کر رہے ہیں۔ مختلف امریکی شہری اس فیصلے کے پیچھے سیاسی حالات، بہتر روزگار کے مواقع، اور مستقبل کی سیکیورٹی جیسے عوامل کو اہم قرار دے رہے ہیں۔درخواست کی فیس تقریباً 75 کینیڈین ڈالر رکھی گئی ہے، تاہم قانونی معاونت حاصل کرنے کی صورت میں اخراجات ہزاروں ڈالر تک پہنچ سکتے ہیں۔ حکام کے مطابق شہریت کے سرٹیفکیٹ کے اجرا میں تقریباً 10 ماہ لگ سکتے ہیں جبکہ ہزاروں درخواستیں زیر التوا ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ کینیڈین معاشرہ عمومی طور پر خوش آمدید کہنے والا ہے، تاہم کچھ حلقوں میں یہ خدشہ بھی پایا جاتا ہے کہ اس رجحان سے پناہ گزینوں کے کیسز متاثر ہو سکتے ہیں۔