امریکا میں اس سال کے آغاز پر ریکارڈ سطح کی خشک سالی نے ماہرین کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے، جہاں موسماتی اعداد و شمار کے مطابق 61 فیصد سے زائد علاقہ شدید یا درمیانی درجے کی خشک سالی کا شکار ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ صورتحال جنگلاتی آگ، پانی کی قلت اور خوراک کی قیمتوں میں اضافے کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔یو ایس ڈراؤٹ مانیٹر کے مطابق جنوب مشرقی امریکا کا 97 فیصد جبکہ مغربی علاقوں کا دو تہائی حصہ خشک سالی کی لپیٹ میں ہے، جو سال کے اس وقت کے لحاظ سے 2000 کے بعد سب سے زیادہ ہے۔ دوسری جانب نیشنل اوشیانک اینڈ ایٹموسفیرک ایڈمنسٹریشن کے ڈیٹا کے مطابق مارچ 2026 1895 کے بعد خشک ترین مہینوں میں شامل رہا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ مغربی امریکا میں برفباری کی شدید کمی کے باعث پانی کے ذخائر متاثر ہو رہے ہیں، جبکہ جنوب سے مشرقی ساحل تک ایک علیحدہ موسمی پیٹرن نے بارشوں کو کم کر دیا ہے۔ اندازوں کے مطابق صرف مشرقی ٹیکساس میں خشک سالی ختم کرنے کے لیے ایک ماہ میں تقریباً 19 انچ بارش درکار ہوگی۔ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ گرمی اور خشک سالی کا امتزاج جنگلاتی آگ کے خطرات کو کئی گنا بڑھا دیتا ہے، جبکہ زراعت متاثر ہونے سے خوراک کی عالمی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی اس صورتحال کو مزید شدید بنا رہی ہے اور آنے والے مہینوں میں اس کے اثرات مزید واضح ہو سکتے ہیں۔