امریکا میں کتابوں پر پابندی اور انہیں لائبریریوں سے ہٹانے کی کوششوں میں ریکارڈ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
امریکن لائبریری ایسوسی ایشن کی رپورٹ کے مطابق سال 2025 میں سب سے زیادہ چیلنج کی جانے والی کتاب ’’سولڈ‘‘ رہی، جو انسانی اسمگلنگ کے موضوع پر مبنی ہے۔ اس کے علاوہ کئی دیگر کتابیں بھی مختلف وجوہات کی بنیاد پر تنقید اور پابندیوں کا نشانہ بنیں۔رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر 4 ہزار سے زائد کتابوں کو چیلنج کیا گیا، جو گزشتہ کئی دہائیوں میں بلند ترین سطحوں میں سے ایک ہے۔ ان اعتراضات کی بڑی وجوہات میں حساس سماجی موضوعات، تشدد اور دیگر متنازع مواد شامل ہیں۔ماہرین کے مطابق ماضی میں کتابوں پر اعتراضات زیادہ تر والدین یا مقامی افراد کی جانب سے سامنے آتے تھے، تاہم اب یہ رجحان حکومتی شخصیات اور منظم گروہوں کی طرف منتقل ہو چکا ہے، جس کے باعث پابندیوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ کتابوں کو ہٹانے کی مہم اب باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت چلائی جا رہی ہے، جہاں مخصوص کتابوں کی فہرستیں مختلف علاقوں میں بار بار دہرائی جا رہی ہیں۔تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ کتابوں پر بڑھتی ہوئی پابندیاں اظہارِ رائے کی آزادی اور طلبہ کی فکری نشوونما کے لیے ایک اہم چیلنج بن سکتی ہیں۔