امریکا میں انتہائی کم آمدن والے افراد سستے گھروں کی شدید کمی کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب ہزاروں ایسے رہائشی یونٹس خالی پڑے ہیں جنہیں سستی رہائش قرار دیا گیا ہے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ملک میں انتہائی کم آمدن والے تقریباً 1 کروڑ 10 لاکھ کرایہ دار گھرانوں کیلئے صرف 40 لاکھ کے قریب سستے کرایے کے گھر دستیاب ہیں۔ ان میں سے تقریباً تین چوتھائی گھرانے اپنی آمدن کا نصف سے زیادہ حصہ کرایے اور یوٹیلیٹی بلوں پر خرچ کرتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق حالیہ برسوں میں بننے والے زیادہ تر سستے گھر ان افراد کیلئے مختص ہیں جن کی آمدن علاقے کی اوسط آمدن کے کم از کم 50 فیصد کے برابر ہے، جس کے باعث انتہائی غریب افراد ان گھروں کے کرایے بھی ادا نہیں کر پاتے۔آسٹن میں سستے رہائشی یونٹس کی شرحِ خالی پن تقریباً 16 فیصد ہے اور 4 ہزار 500 سے زائد یونٹس خالی پڑے ہیں۔ ڈینور میں 60 فیصد اوسط آمدن والے افراد کیلئے بنائے گئے گھروں میں خالی یونٹس کی شرح 13 فیصد جبکہ 80 فیصد آمدن والے یونٹس میں 21 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔حکام کے مطابق صورتحال کی بڑی وجہ یہ ہے کہ انتہائی کم آمدن والے افراد کیلئے مخصوص گھروں کی تعمیر ضرورت کے مقابلے میں انتہائی کم ہے۔ آسٹن میں 2018 سے 2027 تک ایسے 20 ہزار گھر بنانے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا، تاہم 2024 تک صرف 543 یونٹس تعمیر ہوسکے تھے۔