vosa.tv
Voice of South Asia!

پاکستان اورچین کےخلائی تعاون میں تاریخی پیش رفت،پہلاپاکستانی خلامیں جانےکےقریب

0

پاکستان اور چین کے درمیان خلائی تعاون ایک نئے تاریخی مرحلے میں داخل ہونے جا رہا ہے، جہاں پہلی بار کسی پاکستانی شہری کے چین کے تیان گونگ خلائی اسٹیشن تک پہنچنے کی راہ ہموار ہو رہی ہے۔

پاکستانی پائلٹس ذیشان علی اور خرم داؤد بیجنگ کے چائنا ایسٹروناٹ ریسرچ اینڈ ٹریننگ سینٹر میں کئی ماہ سے سخت تربیت حاصل کر رہے ہیں، جس میں چینی زبان کی تعلیم بھی شامل ہے۔دونوں پائلٹس میں سے ایک کا انتخاب پاکستان کے پہلے خلا باز کے طور پر کیا جائے گا۔

سپارکو میں انسان بردار خلائی تعاون کے سربراہ عامر گیلانی کے مطابق حتمی نام کا فیصلہ اکتوبر کے وسط یا آخر تک متوقع ہے۔منتخب ہونے والے پاکستانی خلا باز کے لیے یہ ملک کی تاریخ کا ایک اہم سنگِ میل ہوگا، کیونکہ وہ خلا میں جانے والا پہلا پاکستانی شہری بن سکتا ہے۔اہم بات یہ ہے کہ منتخب پائلٹ پاکستان واپس آئے بغیر چین سے براہِ راست خلائی مشن کے لیے روانہ ہوگا، جبکہ زمین پر واپسی کے بعد طبی اور بحالی کے مراحل مکمل کرکے وطن واپس آئے گا۔

سپارکو کےمطابق ابتدائی مرحلےمیں پائلٹس اور سائنس دانوں کے ایک بڑے گروپ میں سے 42 فائنلسٹس کا انتخاب کیا گیا، جن کے طبی معائنے اور نفسیاتی ٹیسٹ بھی کیے گئے۔منتخب ہونے والا پاکستانی خلا باز پے لوڈ اسپیشلسٹ کے طور پر ذمہ داریاں انجام دے گا۔ یعنی اس کا بنیادی کردار خلائی جہاز اڑانا نہیں بلکہ خلا میں پاکستان کے سائنسی تجربات اور تحقیق کو مکمل کرنا ہوگا۔پاکستان کے پاس اپنا انسان بردار خلائی جہاز یا راکٹ موجود نہیں، تاہم چین کے ساتھ یہ تعاون صرف تیان گونگ خلائی اسٹیشن تک محدود نہیں۔

خلائی تعاون کے اگلےمرحلے میں 2028 کے قریب چین کے چانگ ای-8 قمری مشن کے ذریعے ایک پاکستانی روبوٹک روور بھی چاند کی سطح پر بھیجے جانے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔یہ روور خودکار نظام اور مصنوعی ذہانت کی مدد سے چاند کی سطح پر موجود رکاوٹوں کی نشاندہی کرتے ہوئے اپنے راستے کا تعین کرے گا۔یوں ایک پاکستانی خلا باز کے ممکنہ خلائی سفر سے لے کر چاند پر پاکستانی روبوٹک مشن تک، پاکستان اور چین کا خلائی تعاون ایک نئے مرحلے میں داخل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.