vosa.tv
Voice of South Asia!

امریکی صدر کے ویکسین احکامات پر جھوٹے دعوے بے نقاب

0

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بچوں کی ویکسین سے متعلق سفارشات میں تبدیلی کے لیے ایگزیکٹو آرڈر جاری کردیا، تاہم اس موقع پر ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کی جانب سے ویکسین اور آٹزم سے متعلق کئی غلط دعوے کیے گئے۔

نئے حکم میں خسرہ، ممپس اور روبیلا ایم ایم آر ویکسین کو تین الگ ویکسین میں تقسیم کرنے اور بچوں کو ویکسین مختلف اوقات میں دینے کی سفارش کی گئی ہے۔ماہرین صحت نے اس تجویز پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ویکسین میں غیر ضروری تاخیر سے بچوں میں قابلِ تدارک بیماریوں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق موجودہ ایم ایم آر ویکسین کئی دہائیوں کی تحقیق کے بعد محفوظ اور مؤثر ثابت ہوئی ہے۔ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ بچوں کو 72 ویکسین لگائی جاتی ہیں، تاہم حقائق کے مطابق 2025 کے معمول کے شیڈول میں 18 بیماریوں سے تحفظ شامل تھا اور فلو ویکسین کو نکال کر انجیکشنز کی تعداد تقریباً تین درجن بنتی تھی۔ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ایم ایم آر ویکسین ایک ساتھ دینے سے خطرہ ہوسکتا ہے، جسے ماہرین نے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس ویکسین کے محفوظ ہونے کے شواہد موجود ہیں۔امریکی محکمہ صحت کے سیکریٹری اور ٹرمپ کی جانب سے ویکسین اور آٹزم کے درمیان تعلق کا تاثر بھی دیا گیا، تاہم متعدد مطالعات اس تعلق کو مسترد کرچکی ہیں۔ ماہرین کے مطابق آٹزم کی تشخیص میں اضافے کی بڑی وجوہات بہتر تشخیص، اسکریننگ اور بیماری کی زیادہ مؤثر شناخت ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.