vosa.tv
Voice of South Asia!

امریکی رپورٹ: آئی سی ای کی جانب سے حراستی مراکز پر کروڑوں ڈالر کا ضیاع

0

 امریکی حکومتی احتساب ادارے کی رپورٹ کے مطابق امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ اور دیگر اداروں نے حراستی گنجائش تیزی سے بڑھانے کیلئے ناقص منصوبہ بندی پر کروڑوں ڈالر ضائع کیے، اور یہ رقم بدانتظامی جاری رہنے کے باعث مزید بڑھ سکتی ہے۔

گورنمنٹ اکاؤنٹیبلٹی آفس کی رپورٹ کے مطابق جنوری 2025 میں صدر ٹرمپ کے دوبارہ اقتدار میں آنے اور غیرقانونی تارکین وطن کی بڑے پیمانے پر گرفتاری و ملک بدری کے حکم کے بعد سے آئی سی ای نے کئی ایسے منصوبے شروع کیے جن میں شدید مالی بے ضابطگیاں سامنے آئیں۔ رپورٹ کے مطابق گوانتانامو بے پر خیمے نصب کرنے پر تقریباً 30 لاکھ ڈالر خرچ کیے گئے جو کبھی استعمال ہی نہیں ہوئے، جبکہ خریدے گئے گوداموں کی دیکھ بھال پر 2 کروڑ ڈالر خرچ ہوئے حالانکہ وہاں کسی حراستی شخص کو رکھا ہی نہیں گیا اور اب یہ گودام فروخت کیے جارہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق کانگریس نے گزشتہ سال آئی سی ای کو حراستی گنجائش بڑھانے کیلئے 45 ارب ڈالر کی غیرمعمولی رقم مختص کی تھی، تاہم ادارے کے پاس اب بھی اس رقم کو مؤثر طریقے سے خرچ کرنے کا جامع منصوبہ موجود نہیں۔ حکام کے مطابق حراست میں موجود افراد کی تعداد جنوری 2025 میں 39 ہزار سے بڑھ کر 30 جولائی تک 67 ہزار ہوچکی ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ اگر حراستی سرمایہ کاری کو مؤثر منصوبہ بندی کے مطابق نہ چلایا گیا تو آئی سی ای مزید غیر دانشمندانہ فیصلے اور وسائل کا ضیاع جاری رکھے گا۔ ڈیپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سکیورٹی نے کہا ہے کہ وہ اگست 2027 تک حراستی توسیع کیلئے منصوبہ تیار کرے گا، تاہم رپورٹ کے مطابق تب تک مزید نقصان ہوچکا ہوگا۔ رپورٹ کے مطابق رواں سال کے اوائل میں آئی سی ای نے ملک بھر میں 11 بڑے گودام ایک ارب 7 کروڑ ڈالر میں خریدے تھے، تاہم عوامی مخالفت کے باعث یہ منصوبہ ترک کردیا گیا اور اب محکمہ ان میں سے 7 گودام فروخت کرنے کی تیاری کر رہا ہے، جن پر پہلے ہی 2 کروڑ ڈالر کے ناقابل واپسی اخراجات ہوچکے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق باقی 4 گوداموں کی تزئین و آرائش کیلئے ایریزونا اور میری لینڈ میں 42 کروڑ 60 لاکھ ڈالر مختص کیے گئے تھے، تاہم قانونی چیلنجز کے باعث یہ کام تاحال رکا ہوا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.