vosa.tv
Voice of South Asia!

اسلاموفوبیا اور نفرت انگیز سیاست،گورنرنیویارک مسلمانوں کے ساتھ کھڑی ہوگئیں

0

نیویارک (نیوزڈیسک)کی گورنر کیتھی ہوکل نے اسلا مو فوبیا کوہوا دینےکی مذمت کرتے ہوئے مسلم کمیونٹی کو امریکی معاشرے کا اہم حصہ قرار دیا ہے۔ گورنر کا کہنا ہے کہ کسی کو بھی نفرت انگیز بیانیہ کوفروغ دینے کی اجازت نہیں دی جاسکتی،وہ فرینڈز آ ف پاتھ کے زیر اہتمام میٹ اینڈ گریٹ سے خطاب کر رہی تھیں۔

ریاست نیویارک کےعلاقے لانگ آئی لینڈ میں جاری انتخابی مہم کے دوران بعض عناصر کی جانب سےاسلامو فوبیا کو  بڑھاوا دینے اور  نفرت انگیز بیانیے کے تدارک کے لیےفرینڈز آف پاتھ کے زیرِ اہتمام ہکس وِل میں میٹ اینڈ گریٹ کا انعقاد کیا گیا  جس کی ابتدا  باضباطہ  طور پر تلاوت  کلام  پا ک سے کی گئی ۔

گورنر نیویارک کیتھی ہوکل میٹ اینڈ گریٹ میں پہنچیں تو منتظمین میں شامل  محمد غلام سرور، علی محمد اوراشرف اعظمی نے ان کا خیرمقدم کیا ،انہیں گلدستے پیش کیے اور الیکشن میں مسلم کمیونٹی کی بھرپورحمایت کا یقین بھی دلایا۔ گورنر کی  ہال میں آمد پر شرکا نے کھڑے ہو کر بھرپور تالیوں کی گونج میں والہانہ استقبال کیا۔

میٹ اینڈ گریٹ میں سیاست،کاروبار اور سماجی حلقوں  سے مسلم کمیونٹی کی نمایاں شخصیات کثیر تعداد میں شریک ہوئی ۔گورنر کیتھی ہوکل نے شرکا سے خطاب میں واضح الفاظ میں کہا کہ مسلم کمیونٹی امریکی معاشرے اور نیویارک فیملی کا ایک انتہائی اہم حصہ ہے اور ان کا تحفظ و سلامتی ریاستی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ریاست بھر کی  تمام عبادت گاہوں کے تحفظ و سیکیورٹی کے لیے 70 ملین ڈالر کے فنڈز مختص کر رکھے ہیں تاکہ ہر شہری خود کو محفوظ سمجھے۔

کیتھی ہوکل نے ناساؤ کاؤنٹی کے ایگزیکٹو بروس بلیک مین کی سیاست پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ شہریوں کو آپس میں بانٹنا اور اسلامو فوبیا کو ہوا دینا ایک شرمناک عمل ہے۔ان کا  کہنا تھا کہ  سانحہ نائن  الیون میں مسلمان بھی جان سے گئے تھے اور جانیں بچانے والے فرسٹ ریسپانڈرز میں بھی مسلمان شامل تھے، لہٰذا کسی کو بھی نفرت کا بیانیہ پھیلانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

قبل ازیں فرینڈز آف پاتھ  اور تقریب کےمنتظمین میں شامل کمیونٹی کی معروف سیاسی و سماجی شخصیات محمد غلام سرور، علی محمد اور محمد اشرف اعظمی نے اپنے خدشات و تحفظات  گورنر کیتھی ہوکل کے سامنے رکھے ۔ان کا کہنا تھا کہ معاشرہ نفرت کی سیاست کا متحمل نہیں ہوسکتا، مسلمانوں کی اتنی بڑی آبادی  ہے تو قانون ساز اداروں میں نمائندگی بھی ہونی چاہیے۔

مقررین نے مسلم ووٹرز کے مسائل اور تحفظات کو اجاگر کرتے ہوئے واضح کیا کہ جمہوری عمل میں سیاسی اختلافِ رائے کا حق سب کو حاصل ہے لیکن مذہب کی بنیاد پر نفرت انگیزی کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔

اس موقع پر نیویارک اسٹیٹ ڈیموکریٹک کمیٹی کے وائس چیئرمین باب لوپیز نے بھی خصوصی خطاب کیا اور مسلم کمیونٹی کے جائز مطالبات اور حقوق کی بھرپور حمایت کی۔

آخر میں  گورنر کیتھی ہوکل نے پنڈال میں  موجود شرکا  اور کمیونٹی کی نمایاں  شخصیات سے انفرادی طور پر ملاقات کی، ان کے مسائل اور تجاویز کو توجہ  سے سنا، کمیونٹی نے گورنر کو  یقین دلایا کہ نومبر کے الیکشن میں انھیں بھرپور سپورٹ کریں گے ۔حاضرین کے لیے پرتکلف عشائیہ پراس میٹ اینڈ گریٹ کا اختتام  ہوا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.