ایران اور امریکا کے درمیان جاری سفارتی رابطوں کے دوران یہ اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ تہران بڑھتے ہوئے معاشی دباؤ اور داخلی مشکلات سے نمٹنے کے لیے واشنگٹن کے ساتھ ایک عبوری معاہدے پر غور کر رہا ہے۔ اس حکمتِ عملی کا مقصد جوہری پروگرام پر کسی بڑے یا مستقل سمجھوتے سے گریز کرتے ہوئے فوری مالی ریلیف حاصل کرنا اور معیشت کو سہارا دینا ہے۔
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق مذاکرات سے واقف ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران فی الحال ایسا محدود معاہدہ چاہتا ہے جس کے ذریعے بعض معاشی پابندیوں میں نرمی مل سکے، تیل کی برآمدات میں آسانی پیدا ہو اور ملک کو درپیش مالی بحران میں کچھ کمی آئے۔ تہران کی کوشش ہے کہ اپنے بنیادی مؤقف سے پیچھے ہٹے بغیر مذاکراتی عمل کو جاری رکھا جائے اور کسی ناقابلِ واپسی فیصلے سے بچا جائے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حالیہ مہینوں میں معاشی مشکلات، عوامی بے چینی اور ملک گیر احتجاجی مظاہروں نے ایرانی قیادت پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔ حکام کو امید ہے کہ اگر محدود پیمانے پر بھی مالی ریلیف حاصل ہو جاتا ہے تو معیشت کو سہارا ملے گا اور عوامی ناراضی میں کمی لانے میں مدد مل سکتی ہے۔ذرائع کے مطابق ایران چاہتا ہے کہ عبوری معاہدے کے ذریعے اسے اربوں ڈالر کی تیل آمدنی تک رسائی، خام تیل کی برآمدات میں سہولت اور بعض اقتصادی پابندیوں میں نرمی حاصل ہو، جبکہ حساس جوہری سرگرمیوں پر کوئی بڑی رعایت نہ دینی پڑے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز ایران کا اہم ترین تزویراتی اثاثہ ہے اور تہران مستقبل میں بھی اس پر اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھنا چاہتا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق کسی بھی عارضی معاہدے سے ایران کو وقتی معاشی سہارا ضرور مل سکتا ہے، تاہم ایران اور امریکا کے درمیان جوہری پروگرام، علاقائی اثر و رسوخ اور سلامتی سے متعلق بنیادی اختلافات بدستور موجود رہیں گے، جس کے باعث حتمی اور جامع معاہدے کا راستہ ابھی بھی پیچیدہ دکھائی دیتا ہے۔