امریکا میں امیگریشن کریک ڈاؤن کے دوران ایک اچانک تبدیلی سامنے آئی ہے جہاں امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کی جانب سے ہونے والی گرفتاریاں حالیہ ہفتوں میں تقریباً 12 فیصد کم ہو گئی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق یہ کمی منیپولس میں دو شہریوں کی ہلاکت کے بعد سامنے آئی، جہاں امیگریشن اہلکاروں کی کارروائیوں پر شدید تنقید ہوئی اور حکومتی سطح پر اہم تبدیلیاں کی گئیں۔ اس واقعے کے بعد امیگریشن پالیسی اور نفاذ کے طریقہ کار پر سوالات اٹھے، جس کے نتیجے میں اعلیٰ حکام کو ہٹا دیا گیا۔اعداد و شمار کے مطابق فروری کے آغاز کے بعد پانچ ہفتوں میں اوسط ہفتہ وار گرفتاریاں 8,347 سے کم ہو کر 7,369 رہ گئیں، تاہم یہ تعداد اب بھی ڈونلڈ ٹرمپ کے دوسرے دور حکومت کے ابتدائی عرصے اور سابق صدر جو بائیڈن کے دور کے مقابلے میں زیادہ ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ملک بھر میں یہ کمی یکساں نہیں رہی۔ کچھ ریاستوں جیسے کینٹکی، انڈیانا، نارتھ کیرولائنا اور فلوریڈا میں گرفتاریاں بڑھ گئیں، جبکہ منی سوٹا اور ٹیکساس جیسے بڑے علاقوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔رپورٹ میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ گرفتار ہونے والوں میں بڑی تعداد ایسے افراد کی ہے جن کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں تھا۔ فروری سے قبل پانچ ہفتوں میں 46 فیصد گرفتار افراد کے خلاف کوئی مقدمہ یا سزا نہیں تھی، جو بعد میں کم ہو کر 41 فیصد ہو گئی، مگر یہ شرح اب بھی کافی زیادہ ہے۔