امریکی ریاست نیویارک نے وفاقی محکمہ ٹرانسپورٹ کے اس فیصلے کو عدالت میں چیلنج کر دیا ہے جس کے تحت تقریباً 74 ملین ڈالر کی ہائی وے فنڈنگ روک دی گئی۔
یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب ریاست نے تقریباً 33 ہزار متنازع کمرشل ڈرائیونگ لائسنس منسوخ کرنے سے انکار کر دیا، جن پر گزشتہ سال آڈٹ میں سوالات اٹھائے گئے تھے۔وفاقی حکام کا مؤقف ہے کہ کئی لائسنس ایسے افراد کے پاس بھی فعال رہے جن کی قانونی حیثیت ختم ہو چکی تھی، جبکہ نیویارک حکام کا کہنا ہے کہ تمام لائسنس اس وقت جاری کیے گئے جب درخواست دہندگان قانونی طور پر ملک میں موجود تھے، اس لیے انہیں منسوخ کرنا غیر ضروری ہے۔ریاستی اٹارنی جنرل نے اس اقدام کو سیاسی انتقام قرار دیتے ہوئے کہا کہ فنڈنگ روکنے سے نہ صرف روزگار بلکہ سڑکوں اور پلوں کی حفاظت بھی متاثر ہوگی۔ گورنر کیتھی ہوکل نے بھی وفاقی فیصلے کو غیر قانونی اور غیر ذمہ دارانہ قرار دیا۔یہ تنازع ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وفاقی حکومت ٹرکنگ انڈسٹری میں سخت قوانین نافذ کرنے، غیر معیاری ڈرائیورز کو سڑکوں سے ہٹانے اور حفاظتی اقدامات کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ امیگرنٹ کمیونٹیز کا کہنا ہے کہ انہیں غیر منصفانہ طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔