اسلام مخالف مجوزہ قانون سازی کے خلاف آواز، مسلم وفد متحرک
امریکا میں گیارہویں سالانہ مسلم ایڈووکیسی ڈے کے سلسلے میں مسلمان طلبہ اور مختلف تنظیموں کے ارکان پر مشتمل وفد کیپی ٹول ہل پہنچ گیا۔اراکینِ کانگریس سے ملاقاتوں میں اسلامو فوبیا ، مظلوم فلسطینیوں اور تارکینِ وطن کا مقدمہ پیش کردیا۔
گیارہویں سالانہ مسلم ایڈووکیسی ڈے کے سلسلے میں اکنا ،کو نسل فارسوشل جسٹس اوردیگر تنظیموں کے پلیٹ فارم سے آئے ہوئے وفود نے تاریخی عمارت کیپی ٹول ہل کا دورہ کیا اورکانگریس اراکین سے ملاقتیں کیں۔اس موقع پر یو ایس کونسل آف مسلم آرگنائزیشنز نے پالیسی اینڈ ایڈووکیسی ٹریننگ کے عنوان سے آگہی سیشن کا اہتمام کیا جس کی ابتداء تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوئی۔ تربیتی نشست میں مختلف ریاستوں سے آئے نوجوان طلبہ و طالبات اور مختلف شعبہ جات کے ماہرین بھی شریک تھے۔ یو ایس کونسل آف مسلم آرگنائزیشنزکے مقررین نے حاضرین کو اسلام مخالف مجوزہ قانون ساز ی سے آگاہ کیا، مقررین کا کہنا تھا کہ ہمیں قانون سازوں پر زور ڈالنا ہے کہ وہ شریعہ فری امریکا کاکس سے دستبردار ہوجائیں۔شرکاء نے فلسطین سے اظہارِ یکجہتی میں ان کا پرچم بھی اٹھایا ہوا تھا۔آگہی سیشن میں نوجوانوں کو یہ بتایا گیاکہ یہ مجوزہ قانون کس طرح اسلام اور مسلمان مخالف، مذہبی آزادی کی راہ میں رکاوٹ اور مسلمانوں کو حاصل آئینی تحفظ کے لیے خطرہ ہے، ہم نے امریکی قانون سازوں کو یہ احساس دلانا ہے کہ وہ عوام کے سامنے جوابدہ ہیں اور کسی کی بھی سیاسی خواہش پر ملک کو جنگ کی آگ میں دھکیلنا دانشمندی نہیں ۔قبل ازیں یو ایس کونسل آف مسلم آرگنائزیشنز کی دعوت پرآئے وفد نے امریکی کانگریس میں مسلمان خاتون رکن الہان عمر سے ملاقات کی ۔ اس ملاقات میں وفد نے مسلمانوں کو قانونی اور آئینی میدان میں درپیش مسائل سے آگاہ کیا۔الہان عمر کا کہنا تھا کہ ہم نے اپنےآئینی حقوق کے لیے متحدہ ہوکر اپنی جدوجہد جاری رکھنی ہے ،اس کی بدولت کامیابی کا دروازہ کھلے گا۔ کیپٹل ہل میں نوجوانوں کو کانگریس اور سینیٹ کی عمارت کے مطالعاتی دورہ کا موقع ملاجس میں انھیں سیاسی اور آئینی امور سمجھنے میں مدد ملی۔ طلبا نے اس دورے کو بہت مفید قراردیا۔سیشن کے اختتام سے قبل تارکینِ وطن کے حقوق اور آزادی ِ اظہارِ رائے پر مبنی پر لیکچر ہوا۔ نوجوانوں کو بتایا گیا کہ ہمارے بنیادی مطالبات میں اسرائیل فرسٹ ایجنڈے اور فلسطین کے خلاف جنگ کا خاتمہ اولین ترجیحات میں شامل ہے۔