امریکی مڈٹرم الیکشن2026سےقبل بڑاسروے، گورنمنٹ کرپشن مہنگائی کےبعدسب سےاہم انتخابی مسئلہ بن گئی
نیویارک(نیوزڈیسک)امریکی کانگریس کے وسط مدتی انتخابات میں 2روز باقی رہ گئے، مہنگائی اور زندگی کے بڑھتے ہوئے اخراجات کے بعد سرکاری کرپشن امریکی ووٹرز کا دوسرا بڑا انتخابی مسئلہ بن کر ابھری ہے۔
دی گارڈین کے لیے دی ہیرس پول کے خصوصی آن لائن سروے کے مطابق، امریکہ کے 10 میں سے 9 ووٹرز کا ماننا ہے کہ منتخب نمائندے عوامی مفاد کے بجائے اپنے اور اپنے مالی معاونین کے ذاتی مفادات کو ترجیح دے رہے ہیں۔سروے میں شامل 76 فیصد ووٹرز نے کہا کہ منتخب حکام عام شہریوں کے لیے معیشت کو بہتر بنانے کے بجائے اپنی جیبیں بھرنے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔
ووٹرز نے وائٹ ہاؤس کے تاریخی ایسٹ ونگ کو مسمار کر کے 400 ملین ڈالر کا بال روم بنانے ،ایلن مسک کی تجویز پر 4 لاکھ 20 ہزار سے زائد وفاقی ملازمین کی برطرفی، قطر کے شاہی خاندان سے 400 ملین ڈالر کے جیٹ طیارے کے تحفے، اور ٹرمپ فیملی کے 1 بلین ڈالر کے کرپٹو بزنس پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔40 فیصد ووٹرز کا ماننا ہے کہ ریپبلکن پارٹی میں کرپشن کا مسئلہ زیادہ سنگین ہے۔21 فیصد ووٹرز نے ڈیموکریٹس کو زیادہ کرپٹ قرار دیا، جبکہ 32 فیصد کا خیال ہے کہ دونوں جماعتیں برابر کی ذمہ دار ہیں۔انتخابات میں کلیدی کردار ادا کرنے والے انڈیپنڈنٹ ووٹرزمیں سے 34 فیصد نے ریپبلکنز اور 13 فیصد نے ڈیموکریٹس پر کرپشن کے زیادہ سنگین ہونے کا الزام لگایا۔
این بی سی نیوز کے مطابق، ان مڈٹرم انتخابات پر اشتہارات کی مد میں 11.2 بلین ڈالر خرچ ہو چکے ہیں جو ایک نیا ریکارڈ ہے۔ برینن سینٹر کے مطابق صرف 40 ارب پتیوں نے 2.5 بلین ڈالر فنڈز فراہم کیے ہیں۔ ووٹرز کی اکثریت کا کہنا ہے کہ یہ بے تحاشا سرمایہ سیاست دانوں کو عوام سے دور اور ڈونرز کے قریب کر رہا ہے۔