امریکہ کا افغان شہریوں کو پاکستان کے راستے ڈیپورٹ کرنےکا منصوبہ
نیویارک(نیوزڈیسک)امریکہ سے افغان شہریوں کی ملک بدری کا معاملہ ایک نئی صورت اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ امریکی انتظامیہ زیرِ حراست بعض افغان شہریوں کو پہلے پاکستان منتقل کرنے اور اس کے بعد افغانستان بھیجنے کے منصوبے پر غور کر رہی ہے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق اس ممکنہ منصوبے نے پاکستان کے لیے بھی اہم سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ کیا پاکستان ان افغان شہریوں کی عارضی منتقلی قبول کرے گا؟ کیا اسلام آباد اس معاملے پر واشنگٹن سے کوئی معاہدہ کرے گا؟ اور ان افراد کی قانونی حیثیت اور مستقبل کا فیصلہ کیسے ہوگا؟دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس منصوبے پر تشویش ظاہر کی ہے۔ ان کا بنیادی خدشہ یہ ہے کہ افغان شہریوں کو ایسے حالات میں واپس بھیجنے سے ان کی سلامتی، تحفظ اور بنیادی انسانی حقوق متاثر ہو سکتے ہیں۔یہ معاملہ اس لیے بھی اہم ہے کہ پاکستان پہلے ہی افغان شہریوں کی واپسی اور ملک بدری کے معاملے پر مختلف چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔تاہم ابھی یہ واضح ہونا باقی ہے کہ امریکی منصوبہ حتمی شکل اختیار کر چکا ہے یا نہیں، پاکستان نے اس حوالے سے کیا مؤقف اختیار کیا ہے اور کتنے افغان شہری اس ممکنہ منتقلی سے متاثر ہو سکتے ہیں۔اب اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان امریکی منصوبے میں ٹرانزٹ ملک کا کردار ادا کرے گا، یا اس معاملے پر کوئی الگ حکمت عملی اختیار کی جائے گی؟اس پیش رفت پر مزید تفصیلات سامنے آنے کا انتظار ہے۔