vosa.tv
Voice of South Asia!

عدالت نے ٹرمپ انتظامیہ کی درخواست مسترد کردی،نیویارک کےسینکچری سٹی امیگریشن قوانین برقرار

0

نیویارک(نیوزڈیسک)امریکی وفاقی عدالت نے ٹرمپ حکومت کا وہ مقدمہ خارج کر دیا ہے جس میں نیویارک شہر کے امیگریشن قوانین کو چیلنج کیا گیا تھا۔یہ قوانین مقامی پولیس کو پابند نہیں کرتے کہ وہ ہر معاملے میں امریکی امیگریشن اینڈ کسٹم انفورسمنٹ کے ساتھ تعاون کرے۔

خبر رساں ادارے رائیٹرز کے مطابق ٹرمپ حکومت چاہتی تھی کہ نیویارک کے مقامی ادارے غیر قانونی طور پر امریکہ میں موجود افراد کے خلاف کارروائی میں وفاقی امیگریشن حکام کی زیادہ مدد کریں۔لیکن عدالت نے وفاقی حکومت کا مقدمہ خارج کر دیا۔ اس کا مطلب ہے کہ حکومت اس مقدمے کے ذریعے نیویارک شہر کو اپنے قوانین تبدیل کرنے پر مجبور نہیں کر سکی۔

نیویارک کے قوانین کے تحت مقامی پولیس ہر صورت میں آئس کی درخواست پر کسی شخص کو حراست میں رکھنے کی پابند نہیں ہے۔ان قوانین کا مقصد یہ ہے کہ تارکینِ وطن پولیس سے رابطہ کرنے، جرائم کی اطلاع دینے اور ضروری سہولتیں حاصل کرنے سے خوف محسوس نہ کریں۔دوسری طرف، ٹرمپ حکومت کا مؤقف ہے کہ ان قوانین کی وجہ سے امیگریشن حکام کو بعض افراد کے خلاف کارروائی کرنے میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ اس فیصلے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آئس نیویارک میں گرفتاریاں نہیں کر سکتا۔

آئس  وفاقی قانون کے تحت اپنی کارروائیاں جاری رکھ سکتا ہے۔ عدالت کا فیصلہ صرف اس بات سے متعلق ہے کہ مقامی حکومت کو وفاقی امیگریشن حکام کے ساتھ تعاون کرنے پر کس حد تک مجبور کیا جا سکتا ہے۔نیویارک میں رہنے والے پاکستانیوں اور دوسرے تارکینِ وطن کے لیے یہ ایک اہم قانونی پیش رفت ہے، لیکن اس سے سب کو خودکار طور پر قانونی تحفظ نہیں مل جاتا۔اگر کسی شخص کے خلاف ملک بدری کا حکم جاری ہو چکا ہے، اسائلم کیس چل رہا ہے یا آئس کی جانب سے نوٹس ملا ہے تو اسے اپنے کیس کے مطابق قانونی مشورہ لینا چاہیے۔اس فیصلے سے گرین کارڈ، ورک پرمٹ، ویزا یا شہریت کے قوانین خودبخود تبدیل نہیں ہوئے۔ یہ بھی ضروری ہے کہ اس فیصلے کو پورے امریکہ میں آئس کی کارروائیوں پر پابندی نہ سمجھا جائے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.