چینی سائنس دان کینسر کے علاج کے لیے ایک غیر روایتی طریقے پر توجہ دے رہے ہیں جس میں آئرن کے عنصر کو استعمال کیا جا رہا ہے۔
اس خیال کی ابتدا صنعتی گندے پانی کو صاف کرنے کے عمل سے ہوئی۔ اس عمل میں آئرن ہائیڈروجن پرآکسائیڈ کے ساتھ ری ایکٹ کرکے ہائیڈروکسل ریڈیکلز پیدا کرتا ہے جو گندے پانی میں موجود مختلف نامیاتی اور زہریلے مالیکیولز کو توڑ دیتے ہیں۔چینی سائنس دانوں نے اسی اصول کو استعمال کرتے ہوئے مہلک رسولیوں کے علاج کا طریقہ تیار کرنے کی کوشش کی۔ اس مقصد کے لیے لوہے کو نینو کاربن کے انجیکشن کے ساتھ ملایا گیا جس سے سی این ایس آئی –ایف ای نامی نینو کاربن آئرن انجیکشن تیار کیا گیا۔ اس نام میں ایف ای فیرس آئرن کی علامت ہے۔علاج کے بعد طبی نگرانی سے معلوم ہوا کہ ایڈوانس مرحلے کے کینسر میں مبتلا 16 مریضوں یعنی 84.2 فی صد میں رسولیوں کی افزائش رک گئی جبکہ ان میں سے دو مریضوں کی رسولیوں کے حجم میں کمی بھی دیکھی گئی۔یہ تحقیق یکم اکتوبر کو ہم مرتبہ ماہرین کے جائزے سے گزرنے والے سائنسی جرنل سِگنل ٹرانسڈکشن اینڈ ٹارگٹڈ تھراپی میں شائع ہوئی۔