vosa.tv
Voice of South Asia!

ایڈمنٹن میں خالصتان ریفرنڈم کی تیاریاں مکمل،امریکا اوریورپ سے بھی سکھوں کی آمد جاری

0

ایڈمنٹن (نیوزڈیسک)کینیڈا کے صوبے البرٹا کے شہر ایڈمنٹن میں 18 اکتوبر کو خالصتان ریفرنڈم کے انعقاد کے لیے تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ منتظمین کے مطابق، اس سرگرمی میں شرکت کے لیے کینیڈا کے مختلف صوبوں کے علاوہ امریکا اور یورپ سے بھی سکھ برادری کے افراد ایڈمنٹن پہنچ رہے ہیں۔ ریفرنڈم کا اہتمام سکھ تنظیم سکھ فار جسٹس کی جانب سے کیا جا رہا ہے۔

خالصتان ریفرنڈم کے حامی بھارتی پنجاب کو بھارت سے الگ کرکے سکھوں کے لیے ایک آزاد ریاست قائم کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ اس سرگرمی کے ذریعے سکھ برادری کو اپنے سیاسی مستقبل کے بارے میں رائے دینے کا موقع ملنا چاہیے۔منتظمین کا کہنا ہے کہ ووٹنگ کے انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں، جبکہ مقامی گردواروں اور سکھ کمیونٹی کے ذریعے لوگوں کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔

منتظمین کے مطابق، ووٹنگ صبح 9 بجے سے شام 5 بجے تک ہوگی۔ انہوں نے شرکا کو تصویر والی شناختی دستاویز ساتھ لانے کی ہدایت بھی کی ہے۔منتظمین کا دعویٰ ہے کہ مستقل رہائشیوں، طلبہ اور ورک پرمٹ پر کینیڈا میں مقیم افراد سمیت مختلف حیثیت رکھنے والے سکھ بھی اس سرگرمی میں حصہ لے سکتے ہیں۔ تاہم، ووٹنگ کی اہلیت اور شناخت سے متعلق شرائط کی تصدیق منتظمین کے باضابطہ قواعد سے کی جانی چاہیے۔

ریفرنڈم کی تیاریوں کے دوران سکھ رہنماؤں نے بھارت میں سکھ برادری کے سیاسی، مذہبی اور انسانی حقوق سے متعلق مسائل بھی اٹھائے ہیں۔مقررین نے 1984 میں امرتسر کے گولڈن ٹیمپل پر بھارتی فوجی آپریشن اور اسی سال سکھ مخالف تشدد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان واقعات نے سکھ برادری میں علیحدہ ریاست کے مطالبے کو تقویت دی۔بعض سکھ رہنماؤں نے پاکستان کی حکومت اور پالیسی سازوں سے بھی خالصتان کے معاملے پر غور کرنے کی اپیل کی ہے۔مقررین کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل میں خالصتان کو تسلیم کرنے کے حوالے سے کوئی سیاسی پیش رفت ہوتی ہے تو پاکستان اور ایک ممکنہ آزاد خالصتان کے درمیان تجارت، علاقائی رابطوں اور اقتصادی تعاون کے نئے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔

خالصتان تحریک کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ سکھ برادری کو اپنے سیاسی مستقبل کے فیصلے کا حق ملنا چاہیے۔ دوسری جانب، بھارت خالصتان کی علیحدگی پسند تحریک کی مخالفت کرتا ہے۔ اس معاملے پر دونوں جانب کے سیاسی مؤقف میں واضح اختلاف پایا جاتا ہے۔ ریفرنڈم کے منتظمین نے کینیڈا اور بیرونِ ملک مقیم سکھ خاندانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس سرگرمی میں شرکت کریں اور اپنی سیاسی رائے کا اظہار کریں۔ان کا کہنا ہے کہ خالصتان تحریک کا مقصد سکھ برادری کے مطالبات کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنا ہے۔ منتظمین نے شرکا سے نظم و ضبط برقرار رکھنے اور پرامن انداز میں سرگرمی میں حصہ لینے کی اپیل بھی کی ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.