اہرام مصر میں چھپا ہے کوئی ریاضیاتی راز؟ چاند، ستاروں اور سیاروں سے تعلق کا نیا دعویٰ
نیویارک (نیوزڈیسک)مصر کا عظیم اہرام ایک بار پھر دنیا بھر میں بحث کا موضوع بن گیا ہے۔کیا ساڑھے 4 ہزار سال پرانی اس عظیم عمارت میں کوئی ایسا ریاضیاتی راز چھپا ہے جس کا تعلق چاند، ستاروں اور سیاروں سے ہے؟ جانتے ہیں اس رپورٹ میں
برطانوی اخبار کی رپورٹ کے مطابق محقق سیفی لیوی نے دعویٰ کیا ہے کہ گیزہ کے عظیم اہرام کی اونچائی، بنیاد اور ڈھلوان سمیت مختلف پیمائشوں میں ایسے ریاضیاتی نمونے موجود ہیں جو قدیم مصریوں کے ریاضی اور فلکیات سے متعلق علم کی طرف اشارہ کرسکتے ہیں۔
محقق نے قدیم مصری ریاضیاتی طریقوں سے وابستہ کسرات کے ذریعے اہرام کی پیمائشوں کا تجزیہ کیا اور دعویٰ کیا کہ بعض حاصل ہونے والے اعداد فلکیاتی چکروں اور معروف ریاضیاتی مستقلات سے حیرت انگیز مشابہت رکھتے ہیں۔یہ دعویٰ اگر درست ثابت ہوا تو اہرام مصر کے بارے میں ہماری سوچ بدل سکتی ہے، کیونکہ اس صورت میں یہ سوال اٹھے گا کہ کیا یہ عظیم عمارت صرف فرعون کی قبر تھی یا قدیم علم کو محفوظ رکھنے کے لیے بھی اسے خاص انداز میں ڈیزائن کیا گیا تھا؟محقق نے اہرام کو قدیم مصری اساطیر کے مقدس بن بن ٹیلے سے بھی جوڑا ہے، جسے کائنات کی تخلیق کے ابتدائی مرحلے کی علامت سمجھا جاتا تھا۔
تاہم یہاں ایک اہم بات یہ ہے کہ یہ تحقیق ابھی ماہرین کی باقاعدہ جانچ کے مرحلے سے نہیں گزری، اس لیے ان دعوؤں کو فی الحال ثابت شدہ آثارِ قدیمہ کے حقائق نہیں کہا جاسکتا۔لیکن اگر واقعی اہرام کی ہزاروں سال پرانی پیمائشوں میں آسمان، ستاروں اور ریاضی کا کوئی پوشیدہ تعلق موجود ہے تو یہ دنیا کی قدیم ترین عمارتوں میں سے ایک نہیں، بلکہ قدیم انسان کی ذہانت کا ایک حیران کن پیغام بھی ہوسکتا ہے۔