امریکا: سیاحتی یا کاروباری ویزے پر آنے والوں کے لیے پناہ کی درخواست مشکل، ویزا منسوخی کا امکان
نیویارک (نیوز ڈیسک)ٹرمپ انتظامیہ امریکا میں کے خلاف ایک بڑا اقدام کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ انتظامیہ بی ون اور بی ٹو ویزا رکھنے والے 2 لاکھ افراد کے ویزے منسوخ کرنے پر غور کر رہی ہے، جسے امریکی تاریخ میں ویزوں کی سب سے بڑی اجتماعی منسوخی قرار دیا جا رہا ہے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ ان غیرملکیوں کے بی ون اور بی ٹو ویزے منسوخ کرنے کی تیاری کر رہا ہے جنہوں نے امریکا میں سیاسی پناہ کی درخواست دی ہے یا اس کے لیے درخواست دینے کا عمل شروع کیا ہے۔محکمہ خارجہ کی دستاویزات کے مطابق 2016 سے 2026 کے درمیان جاری کیے گئے بعض بی ون اور بی ٹو ویزوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے، جبکہ اس کارروائی میں محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی بھی تعاون کرے گا۔
بی ون ویزا عام طور پر کاروباری سفر جبکہ بی ٹو ویزا سیاحت، اہلِ خانہ سے ملاقات یا طبی علاج کے لیے جاری کیا جاتا ہے۔امریکی حکام کے مطابق ان ویزا ہولڈرز نے امریکا میں مختصر قیام کے لیے آنے کا مؤقف اختیار کیا، لیکن بعد میں مستقل قیام کے لیے پناہ کی درخواستیں دائر کیں۔تاہم حکام کا کہنا ہے کہ ویزا منسوخ ہونے کا لازمی مطلب فوری ملک بدری نہیں ہوگا۔ زیرِ التوا پناہ کی درخواست رکھنے والے بعض افراد کی امیگریشن حیثیت تبدیل ہوسکتی ہے، لیکن ان کا بزنس یا ٹورسٹ ویزا ختم ہوجائے گا۔
امریکی حکام نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ ممکنہ طور پر منسوخ کیے جانے والے ویزوں کی حتمی تعداد ابھی طے نہیں، کیونکہ یہ کارروائی مرحلہ وار جاری رہ سکتی ہے۔ٹرمپ انتظامیہ کے مطابق سیاحتی یا کاروباری ویزے کے ذریعے امریکا آنے کے بعد پناہ کی درخواست دینا امیگریشن قوانین سے بچنے کے لیے راستے کے طور پر استعمال نہیں ہونا چاہیے۔گزشتہ 18 ماہ کے دوران امریکی محکمہ خارجہ تقریباً ایک لاکھ 75 ہزار ویزے منسوخ کرچکا ہے، جن میں جرائم میں ملوث افراد کے علاوہ بعض ایسے افراد بھی شامل تھے جنہوں نے امریکی پالیسیوں کے خلاف عوامی طور پر اظہارِ خیال کیا۔نئی ممکنہ کارروائی پر قانونی ماہرین کی جانب سے اعتراض اور عدالتی چیلنج کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔