لاس ویگاس میں ٹیسلا کی روبوٹیکسی کو بڑا جھٹکا، 5 ہزار کے بجائے صرف 10 گاڑیوں کی اجازت
خود کار گاڑیاں بنانے والی کمپنی ٹیسلا کے لاس ویگاس میں ہزاروں ڈرائیور لیس ٹیکسیوں کے آپریشن کی خواہش پر پانی پھر گیا۔ نیواڈا ٹرانسپورٹیشن اتھارٹی نے ٹیسلا کو 5000 کے بجائے صرف 10 روبوٹیکسیوں آپریشن کی اجازت دی گئی۔
لاس ویگاس کی سڑکوں پر ہزاروں ڈرائیور لیس ٹیکسیوں کا خواب دیکھنے والی ٹیسلا کو بڑا ریگولیٹری جھٹکا لگ گیا۔ کمپنی 5 ہزار روبوٹیکسیوں کے بیڑے کے ساتھ میدان میں اترنا چاہتی تھی، مگر نیواڈا کے حکام نے فی الحال صرف 10 خودکار ٹیکسیوں کو سڑکوں پر دوڑانے کی اجازت دی ہے۔ یعنی ٹیسلا کا خواب ہزاروں گاڑیوں سے شروع ہونے کے بجائے صرف 10 روبوٹیکسیوں تک محدود ہو کر رہ گیا۔27 جولائی کو دی گئی منظوری کے مطابق ٹیسلا کی روبوٹیکسی سروس فی الحال صرف لاس ویگاس اسٹرپ کوریڈور تک محدود رہے گی، جبکہ گاڑیوں کی زیادہ سے زیادہ رفتار 72 کلومیٹر فی گھنٹہ مقرر کی گئی ہے۔مسافروں کے لیے ایک اور اہم پابندی یہ ہے کہ ٹیسلا کی روبوٹیکسیوں کو ہیری ریڈ انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے مسافروں کو پک کرنے کی اجازت نہیں ہوگی، حالانکہ یہ سہولت کمپنی کی اصل درخواست میں شامل تھی۔ریگولیٹرز نے واضح کیا ہے کہ ٹیسلا اگر روبوٹیکسیوں کی تعداد یا آپریشن کا علاقہ بڑھانا چاہتی ہے تو اسے دوبارہ ریاستی منظوری حاصل کرنا ہوگی۔اس کے علاوہ ہر گاڑی پر واضح طور پر روبو ٹیکسی لکھنا لازمی ہوگا، جبکہ مسافروں کو سفر شروع ہونے سے پہلے بتایا جائے گا کہ وہ ڈرائیور کے بغیر چلنے والی گاڑی میں سوار ہونے جا رہے ہیں۔منظوری کی ایک اہم شرط یہ بھی ہے کہ سفر کے دوران روبوٹیکسیوں کے لیے مناسب انسانی نگرانی موجود ہو۔ تاہم، حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ نگرانی کے لیے گاڑی میں سیفٹی ڈرائیور موجود ہوگا یا اسے دور بیٹھ کر ریموٹ طریقے سے مانیٹر کیا جائے گا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ منظوری کی دستاویز میں یہ وجہ واضح نہیں کی گئی کہ ٹیسلا کی جانب سے درخواست کردہ ہزاروں گاڑیوں کے مقابلے میں ابتدائی بیڑے کو صرف 10 روبوٹیکسیوں تک محدود کیوں رکھا گیا۔ٹیسلا کے لیے لاس ویگاس کا یہ منصوبہ خودکار ڈرائیونگ ٹیکنالوجی کو بڑے پیمانے پر متعارف کرانے کی آزمائش ہے، لیکن فی الحال کمپنی کو ہزاروں روبوٹیکسیوں کے بجائے صرف 10 گاڑیوں سے اپنی ٹیکنالوجی ثابت کرنا ہوگی۔