زمین کے9قدرتی نظاموں میں سے7 خطرناک حد پارکرگئے،سائنس دانوں کی نئی تحقیق نےخبردارکردیا
زمین کا قدرتی نظام مسلسل دباؤ کا شکار ہے، اور سائنس دانوں نے خبردار کیا ہے کہ صورتحال اب تشویشناک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔2026 کے پلینیٹری ہیلتھ چیک کے مطابق زمین کو انسانوں کے لیے محفوظ رکھنے والے 9 بنیادی قدرتی نظاموں میں سے 7 اپنی محفوظ حدود عبور کرچکے ہیں۔
سائنس دانوں کی تیار کردہ اس تحقیق کے مطابق موسمیاتی تبدیلی، حیاتیاتی تنوع میں کمی، زمین کے استعمال میں تبدیلی، میٹھے پانی کے نظام میں بگاڑ، نائٹروجن اور فاسفورس کے قدرتی چکر میں خلل، پلاسٹک اور کیمیائی آلودگی، جبکہ سمندری تیزابیت میں اضافہ خطرناک حد تک پہنچ چکا ہے۔خاص طور پر سمندروں کی تیزابیت پہلی مرتبہ محفوظ حد سے تجاوز کرگئی ہے، جس سے سمندری حیات پر بڑھتے دباؤ کی نشاندہی ہوتی ہے۔تاہم ایک مثبت پیش رفت بھی سامنے آئی ہے۔ اوزون کی تہہ کی صورتحال میں بہتری دیکھی گئی ہے، جبکہ ایروسول آلودگی کو بھی ابھی عالمی سطح پر محفوظ حد سے تجاوز کرنے والی حدود میں شامل نہیں کیا گیا۔ماہرین کے مطابق ان قدرتی نظاموں کو الگ الگ نہیں دیکھا جاسکتا، کیونکہ ایک نظام میں بگاڑ دوسرے نظاموں کو بھی متاثر کرسکتا ہے۔سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال فوری تباہی کی پیش گوئی نہیں، لیکن اگر موجودہ رجحانات برقرار رہے تو زمین کے قدرتی توازن میں طویل مدتی اور بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔