اےآئی روحانیت اورتصوف کی پراسراردنیامیں بھی داخل ہوگئی
جنوبی کوریا میں ایک ایسا واقعہ سامنےآیا ہے جس نے ٹیکنالوجی اور مذہب کے تعلق پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔بدھ مت کے سب سے بڑے فرقوں میں شمار ہونے والے جوگئی فرقے نے ایک تقریب کے دوران ’’گابی‘‘ نامی روبوٹ کو اپنے راہبوں کی صف میں شامل کر لیا۔
یہ منفرد اقدام صرف ٹیکنالوجی کا مظاہرہ نہیں، بلکہ ایک پیغام بھی قرار دیا جا رہا ہے کہ کیا مصنوعی ذہانت، رحم دلی، محبت، ہمدردی اور انسانی ذمہ داری جیسے جذبات و اقدار کے ساتھ مل کر کام کر سکتی ہے؟اب گابی، بدھ راہبوں کے ساتھ مل کر لوگوں کو بدھ مت کی تعلیمات اور نظریات سے آگاہ کرنے میں بھی کردار ادا کرے گا۔لیکن سب سے بڑا سوال یہ ہےکیا ایک روبوٹ روحانیت اور مذہبی تعلیمات کا پیغام انسانوں تک مؤثر انداز میں پہنچا سکتا ہے؟اور کیا مستقبل میں اے آئی اور انسان مل کر انسانیت کی فلاح و بہبود کے لیے کام کریں گے؟ٹیکنالوجی اور روحانیت کا یہ امتزاج یقیناً ایک ایسی بحث کا آغاز ہے جس کے اثرات مستقبل میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔