امریکی سینیٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران پالیسی کو بڑا جھٹکا دیتے ہوئے ایسی قرارداد منظور کر لی ہے جس کے تحت کانگریس کی اجازت کے بغیر ایران کے خلاف جنگ جاری رکھنا غیر قانونی قرار دیا جائے گا۔ قرارداد 47 کے مقابلے میں 50 ووٹوں سے منظور ہوئی۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ کے مطابق چار ریپبلکن سینیٹرز نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا، جبکہ صرف ایک ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اس کی مخالفت کی۔ قرارداد کے حامی قانون سازوں کا کہنا ہے کہ امریکی آئین کے مطابق جنگ شروع کرنے کا اختیار صرف کانگریس کے پاس ہے، نہ کہ صدر کے پاس۔قرارداد پیش کرنے والے سینیٹر ٹم کین نے کہا کہ ایران کے ساتھ کشیدگی کے معاملے پر جنگ سے پہلے کھل کر بحث ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ سفارتی تجاویز کو کانگریس سے شیئر کیے بغیر مسترد کر رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب وہ ایران کے خلاف کارروائی کی دھمکیاں بھی دے رہے ہیں۔اگرچہ یہ قرارداد اب ایوانِ نمائندگان میں بھی پیش کی جائے گی، تاہم وہاں ریپبلکن اکثریت کے باعث اس کی منظوری آسان نہیں سمجھی جا رہی۔ سیاسی مبصرین کے مطابق یہ ووٹنگ اس بات کی علامت ہے کہ ایران کے معاملے پر صدر ٹرمپ کو اپنی ہی جماعت کے اندر سے مزاحمت کا سامنا ہے۔