ایران میں جوہری عدم پھیلاؤ کے عالمی معاہدے این پی ٹی سے ممکنہ علیحدگی پر سنجیدگی سے غور جاری ہے، جہاں حکومتی اور پارلیمانی سطح پر اس حساس معاملے پر مشاورت تیز کر دی گئی ہے۔
ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس اقدام کا مقصد عالمی جوہری ادارے کے معائنہ کاروں کے ذریعے مبینہ جاسوسی کو روکنا ہے، جس کے لیے امریکا اور اسرائیل پر الزامات عائد کیے جا رہے ہیں کہ وہ معائنوں کے نام پر معلومات حاصل کرتے ہیں۔رپورٹس کے مطابق ایران کی جانب سے ایک تین نکاتی منصوبہ بھی زیر غور ہے، جس میں این پی ٹی سے علیحدگی، ماضی کے جوہری معاہدوں سے متعلق قوانین میں تبدیلی یا خاتمہ، اور ہم خیال ممالک کے ساتھ نئے بین الاقوامی تعاون کی تشکیل شامل ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اس ممکنہ تعاون میں شنگھائی تعاون تنظیم اور برکس کے رکن ممالک شامل ہو سکتے ہیں، جبکہ ایران نے ایک بار پھر مؤقف دہرایا ہے کہ وہ جوہری ٹیکنالوجی صرف پرامن مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے، تاہم مغربی ممالک بدستور اس پروگرام پر خدشات کا اظہار کر رہے ہیں۔