vosa.tv
Voice of South Asia!

ایرانی سپریم لیڈر کے امیدوار مجتبیٰ خامنہ ای کون ہیں؟

0

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت کے بعد ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو ممکنہ جانشین کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔سیاسی منصرین کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای کو ہمدردی کا ووٹ مل سکتا ہے۔

ایرانی آئین کے مطابق سپریم لیڈر کا انتخاب علمائے کرام کی اٹھاسی رکنی کونسل کرتی ہے، جو امیدواروں کی مذہبی، سیاسی اور قیادتی صلاحیتوں کا جائزہ لے کر فیصلہ کرتی ہے۔ ذرائع کے مطابق کونسل جلد نئے سپریم لیڈر کے انتخاب کے قریب پہنچ چکی ہے۔مجتبیٰ خامنہ ای آٹھ ستمبر انیس سو انہتر کو ایران کے صوبہ مشرقی آذربائیجان کے شہر خامنہ میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے قم میں دینی تعلیم حاصل کی اور انہیں حجۃ الاسلام کا مذہبی درجہ حاصل ہے جو آیت اللہ سے ایک درجے کم سمجھا جاتا ہے۔ نوجوانی میں انہوں نے ایران عراق جنگ کے دوران مختصر مدت کے لیے خدمات بھی انجام دیں اور بعد ازاں اپنے والد کے دفتر میں اہم انتظامی امور سے وابستہ رہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کی طاقتور فوج پاسدارانِ انقلاب کے ساتھ قریبی تعلقات حاصل ہیں۔ بعض رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ فوجی اور سکیورٹی حلقے انہیں سپریم لیڈر کے طور پر دیکھنے کے حامی ہیں۔ حالیہ حملوں میں ان کے خاندان کے بعض افراد کی ہلاکت کے بعد انہیں عوامی ہمدردی بھی حاصل ہو سکتی ہے جس سے ان کی سیاسی پوزیشن مزید مضبوط ہو سکتی ہے۔ناقدین کا کہنا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای طویل عرصے سے اقتدار کے قریب رہتے ہوئے اہم فیصلوں پر اثر انداز ہوتے رہے ہیں۔ ان پر یہ الزام بھی عائد کیا جاتا رہا ہے کہ دو ہزار نو کے صدارتی انتخابات کے بعد ہونے والے مظاہروں کے خلاف کارروائی میں ان کا کردار تھا، تاہم وہ زیادہ تر پس منظر میں رہنے والے شخصیت سمجھے جاتے ہیں اور عوامی سیاست میں براہ راست کم نظر آئے ہیں۔ماہرین کے مطابق اگر مجتبیٰ خامنہ ای ایران کے نئے سپریم لیڈر منتخب ہو جاتے ہیں تو امکان یہی ہے کہ وہ اپنے والد کی پالیسیوں کو ہی جاری رکھیں گے۔ تاہم کچھ حلقوں کا خیال ہے کہ موروثی انداز میں اقتدار کی منتقلی ایران کے انقلاب کے بنیادی نظریے کے برعکس سمجھی جا سکتی ہے، جس کی وجہ سے اس معاملے پر اندرون ملک بحث بھی جاری ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.