مسلمان نوجوانوں نے امریکی قانون سازوں کو قران کے نسخے پیش کردیے
واشنگٹن میں دو روزہ گیارہواں مسلم ایڈووکیسی ڈے مسلمانوں او ر تارکین وطن کے حقوق میں آواز بلند کرنے کے بعد اختتام پذیر ہوگیا۔مسلمان نوجوانوں نے انگریزی ترجمعہ پر مشتمل قران ِ پاک کے نسخے اراکین کانگریس کو پیش کردیے۔
گیارہویں سالانہ مسلم ایڈووکیسی ڈے میں شرکت کے لیے امریکا کی مختلف ریاستوں سےآئے ہوئے وفود کا دوسرے روز بھی اراکین ِ کانگریس سے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہا۔وفد میں شامل نوجوانوں نے مختلف اراکین ِ کانگریس کے وفاتر میں ان کے نمائندوں کو انگریز ی میں ترجمعہ کردہ قران پاک کے نسخے اور اسلامی تعلیمات پر مبنی لٹریچر پیش کیا تاکہ قران کریم کے مطالعہ سے دینِ اسلام کے حقیقی پیغام کو سمجھ سکیں اور ان کے ذہنوں میں منفی رجحانات بھی ختم ہوں ۔ اس موقع پر اکنا کونسل فار سوشل جسٹس ناساو کاونٹی کے صدر عبد الرحمان کا کہنا تھا کہ ہمیں امریکی ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے مسلمان ہونے پر بھی فخر ہے اور ہمارا مذہب اسلام امن و آشتی کا دین ہے ۔
یو ایس کونسل آف مسلم آرگنائزیشنز کی دعوت پر آئے وفد نے اراکین کانگریس اور ان کے نمائندوں سے گفتگو بھی کی ۔قبل ازیں ڈیموکریٹ کانگریس مین الگرین نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے مجھے اکثر کہتے ہوئے سنا ہوگا کہ نیتن یاہو کو فنڈنگ جاری نہیں رکھ سکتے اور میں آپ سب کو بتانا چاہتا ہوں کہ بہت سے دوسرے لوگ بھی یہ کہنا چاہتے ہیں لیکن ان کے خاموش رہنے کی کئی وجوہات ہیں ۔
کانگریس مین کا مزید کہنا تھا کہ میں کسی سے وہ کام کرنے کو نہیں کہتا جو میں نہیں خود نہیں کیا، میں صرف یہ کہتا ہوں کہ میں نے یہ کام کیا اگر آپ چاہیں تو میرے ساتھ اس میں شامل ہوسکتے ہیں ۔