نیویارک کی ٹرانسپورٹیشن سکیورٹی ایڈمنسٹریشن نے اعلان کیا ہے کہ جزوی حکومتی شٹ ڈاؤن کے باوجود پری چیک پروگرام بدستور جاری رہے گا، حالانکہ اس سے قبل فنڈنگ بحران کے باعث اس سروس کی ممکنہ معطلی کا عندیہ دیا گیا تھا۔
خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق عملے کی دستیابی کو مدنظر رکھتے ہوئے آپریشنز میں ضرورت کے مطابق رد و بدل کیا جا سکتا ہے۔ پری چیک پروگرام رجسٹرڈ مسافروں کو ایئرپورٹ سکیورٹی چیک پوائنٹس پر تیز اور آسان گزرنے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ 2013 میں شروع ہونے والے اس پروگرام میں اب تک دو کروڑ سے زائد امریکی شامل ہو چکے ہیں، جبکہ کئی مسافر گلوبل انٹری سروس بھی استعمال کرتے ہیں، جس کے حوالے سے تاحال کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔یہ صورتحال 14 فروری سے جاری جزوی حکومتی شٹ ڈاؤن کے باعث پیدا ہوئی، جو U.S. ہوم لینڈ سکیورٹی کی فنڈنگ پر سیاسی اختلافات کے بعد شروع ہوا۔ محدود وسائل کے پیش نظر حکام نے ہنگامی اقدامات پر غور کیا تھا، تاہم پری چیک کو جاری رکھنے کا فیصلہ ممکنہ سفری تاخیر اور مسائل سے بچنے کے لیے کیا گیا۔