امریکی شہریت چھوڑنے والوں کی تعداد میں اضافہ، ہزاروں افراد نے نیا راستہ چن لیا
امریکہ سے بیرونِ ملک منتقل ہونے والے ہزاروں شہری حالیہ برسوں میں اپنی امریکی شہریت ترک کرنے کا فیصلہ کر رہے ہیں۔
سی این این نیوز کی رپورٹس کے مطابق 2025 میں تقریباً 4,900 افراد نے امریکی شہریت چھوڑنے کا عمل مکمل کیا، جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل تعداد اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔ اس رجحان کی بڑی وجوہات میں امریکی ٹیکس قوانین، بیرونِ ملک رہنے والے شہریوں پر مالی ذمہ داریاں اور سیاسی اختلافات شامل ہیں۔ماہرین کے مطابق امریکہ دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جو اپنے شہریوں سے دنیا کے کسی بھی حصے میں رہنے کے باوجود آمدنی کی تفصیلات اور بعض صورتوں میں ٹیکس کی ادائیگی کا تقاضا کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے یورپ اور دیگر خطوں میں مقیم دوہری شہریت رکھنے والے افراد، خصوصاً وہ لوگ جو اتفاقاً امریکی شہری بن گئے تھے، بینکنگ اور مالیاتی معاملات میں مشکلات کا سامنا کرتے ہیں اور شہریت ترک کرنے پر غور کرتے ہیں۔تاہم قانونی ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ امریکی شہریت ترک کرنا ایک بڑا اور مستقل فیصلہ ہے۔ شہریت چھوڑنے کے بعد فرد کو امریکہ میں داخلے، رہائش یا ملازمت کے لیے دیگر غیر ملکی شہریوں کی طرح ویزا قوانین کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مالی یا سیاسی وجوہات سے ہٹ کر اس فیصلے کے طویل المدتی اثرات پر بھی غور کرنا ضروری ہے۔