vosa.tv
Voice of South Asia!

نیویارک میں5 ملین ڈالرسےزائد مالیت کےدوسرے گھروں پرٹیکس کے نفاذ کی راہ ہموار

0

نیویارک (نیوزڈیسک)میئر ظہران ممدانی کو لگژری گھروں پر اضافی ٹیکس کے معاملے میں عدالتی کامیابی مل گئی، اپیلٹ کورٹ نے شہر کو 5 ملین ڈالر سے زائد مالیت کے ایسے گھروں پر اضافی ٹیکس نافذ کرنے کی اجازت دے دی ہے جو مالکان کی مستقل رہائش گاہ نہیں بلکہ اضافی یا دوسرے گھر ہیں۔

نیویارک میں مہنگی جائیداد رکھنے والوں کے لیے اہم خبر سامنے آگئی ہے۔ میئر ظہران ممدانی کے لگژری گھروں پر اضافی ٹیکس کے منصوبے کو اپیلٹ کورٹ سے قانونی کامیابی مل گئی ہے۔عدالت نے سابقہ فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے نیویارک سٹی کو اس ٹیکس کے نفاذ کی اجازت دے دی ہے۔

نئے ٹیکس کا اطلاق ایسے گھروں پر ہوگا جن کی مالیت 5 ملین ڈالر سے زیادہ ہے اور جو مالکان کی بنیادی رہائش گاہ کے بجائے دوسرے یا اضافی گھر ہیں۔یعنی ایسے امیر افراد جو نیویارک میں کروڑوں ڈالر مالیت کی جائیداد رکھتے ہیں لیکن وہاں مستقل رہائش اختیار نہیں کرتے، انہیں اس نئے ٹیکس کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔بزنس انسائیڈر کے مطابق ستمبر میں اسٹیٹن آئی لینڈ کی ایک عدالت نے گھر مالکان کی درخواست پر ٹیکس کے نفاذ کو روک دیا تھا، جس کے بعد نیویارک سٹی انتظامیہ نے اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی۔

اپیلٹ کورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ درخواست گزار گھر مالکان یہ ثابت نہیں کرسکے کہ ٹیکس کے نفاذ سے انہیں فوری اور حقیقی نقصان پہنچ رہا ہے۔ عدالت کے مطابق ان کے خدشات زیادہ تر مستقبل میں ممکنہ مالی نقصان سے متعلق تھے۔عدالتی فیصلے کے بعد میئر ظہران ممدانی نے اس کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے امیر ترین طبقے کی جانب سے اپنا مناسب حصہ ادا کرنے سے بچنے کی کوششوں کو روکنے میں مدد ملے گی۔

ممدانی کے مطابق اس ٹیکس سے حاصل ہونے والی آمدنی شہر کی بنیادی سہولیات بہتر بنانے، سڑکوں کو محفوظ بنانے اور پارکس کو صاف ستھرا رکھنے پر خرچ کی جائے گی۔تاہم قانونی جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔اس ٹیکس کو آئینی حیثیت کے حوالے سے ایک اور چیلنج کا سامنا ہے۔ فلوریڈا میں رہنے والے بعض ایسے امیر افراد اور کاروباری شخصیات، جن کی نیویارک میں جائیدادیں موجود ہیں، اس قانون کے خلاف مقدمہ دائر کرچکے ہیں۔اس مقدمے میں قانونی دلائل دسمبر میں متوقع ہیں، جس کے بعد ٹیکس کی آئینی حیثیت کے بارے میں مزید صورتحال واضح ہوسکے گی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.