نیویارک (نیوزڈیسک)امریکہ کے وفاقی تحقیقاتی ادارے فیڈرل بیورو آف انویسٹیگیشن کے ہزاروں خصوصی ایجنٹس کا حساس طبی اور ذاتی ڈیٹا مبینہ طو ر پر ہیکرزکے ہاتھ لگ گیا ۔
ایف بی آئی کو ہیک کرنے والے سائبر مجرموں کا کہنا ہے کہ ان کے پاس اس کے ہزاروں خصوصی ایجنٹس کا انتہائی حساس طبی ڈیٹا موجود ہے۔بی بی سی نیوز نے چوری شدہ ’فٹنس فار ورک‘ طبی معائنوں کے نمونے دیکھے ہیں، جن میں خون کے ٹیسٹ نتائج جیسی معلومات اور ڈاکٹروں کے نوٹس شامل ہیں، جن میں ’شیل فش اور کیلے سے الرجی جیسی کیفیتوں کا ذکر کیا گیا ہے۔
ریکارڈز میں ایجنٹس کے مکمل نام اور پتے بھی شامل ہیں، ساتھ ہی طبی مسائل کے حوالے، جن میں ’ خون‘ اور ’ہائی کولیسٹرول‘ شامل ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ہیک، جس کی ایف بی آئی تحقیقات کر رہی ہے،ایجنٹوں کو دھوکہ دہی، بلیک میلنگ اور ہدف بنا کر کیے گئے حملوں کا شکار بنا سکتا ہے، اور ساتھ ہی مجرموں کو قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کا روپ دھارنے میں بھی مدد دے سکتا ہے۔کیٹو نیٹ ورکس میں تھریٹ انٹیلی جنس کے نائب صدر، ایٹے مور نے کہااس فہرست میں ہزاروں ایجنٹوں کے طبی اور فٹنس ریکارڈز موجود ہیں۔پاس ورڈز چوری ہونے پر دوبارہ سیٹ کیے جا سکتے ہیں، لیکن طبی ریکارڈز نہیں، لہٰذا ایک بار یہ ڈیٹا منظرِ عام پر آ جائے تو ہمیشہ کے لیے رہتا ہے۔
ایف بی آئی نے تبصرے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا،تاہم بدھ کے روز اس نے تسلیم کیا کہ واقعہ پیش آیا ہے اور یہ بھی کہا کہ وہ اس کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کر رہی ہے۔