vosa.tv
Voice of South Asia!

امریکا میں کورونا قرض فراڈ کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن، 245 ملین ڈالر کا نقصان

0

امریکی محکمۂ انصاف، اسمال بزنس ایڈمنسٹریشن اور اس کے انسپکٹر جنرل نے کورونا وبا کے دوران چھوٹے کاروباروں کے لیے جاری قرضوں میں فراڈ کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کرتے ہوئے 245 ملین ڈالر کے ممکنہ نقصان سے متعلق 160 سے زائد ملزمان کے خلاف قانونی کارروائیاں کی ہیں۔

محکمۂ انصاف کے مطابق آپریشن ’نو ڈوز‘ کے تحت 12 جون سے یکم ستمبر تک تقریباً 80 افراد پر فردِ جرم عائد کی گئی، جن پر امریکی حکومت کو تقریباً 100 ملین ڈالر کا ممکنہ نقصان پہنچانے کا الزام ہے۔ اس کے علاوہ تقریباً 43 ملزمان نے کورونا قرض فراڈ سے متعلق الزامات میں جرم قبول کیا، جبکہ تقریباً 40 افراد کو سزا سنائی گئی۔حکام کے مطابق مجموعی کارروائیوں میں 160 سے زائد فوجداری مقدمات شامل ہیں اور ان میں تقریباً 245 ملین ڈالر کے ممکنہ نقصان کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ تحقیقات میں ایسے کیسز سامنے آئے جن میں مبینہ طور پر فرضی کاروبار قائم کیے گئے، ملازمین اور آمدنی سے متعلق غلط معلومات دی گئیں، شناختیں استعمال کی گئیں اور کورونا ریلیف قرضوں کے لیے جعلی درخواستیں جمع کرائی گئیں۔امریکی حکام کے مطابق سب سے بڑے کیسز میں سے ایک میں جیمی گرے پر الزام ہے کہ اس نے درجنوں ایسے کاروباروں کے نام پر پیپلز ایکسز پروٹیکشن پروگرام اور اقتصادی بحالی قرضوں کے لیے درخواستیں دیں جو مبینہ طور پر کورونا وبا سے قبل موجود ہی نہیں تھے۔ اس کیس میں امریکی حکومت کو تقریباً 5 کروڑ 59 لاکھ ڈالر کے ممکنہ نقصان کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ایک دوسرے مقدمے میں ایڈرین رافائل پُوپو پیریز اور ہیلن یائما لیوا سانتیسٹیبان پر الزام ہے کہ انہوں نے 100 سے زائد افراد کے نام پر تقریباً 470 جعلی قرض درخواستیں جمع کرائیں اور 45 لاکھ ڈالر سے زائد کے قرض حاصل کرنے کی کوشش کی، جن میں سے تقریباً 24 لاکھ ڈالر جاری بھی ہوئے۔محکمۂ انصاف کے مطابق بعض دیگر مقدمات میں قرضوں کی رقم ذاتی استعمال، جائیداد کی خریداری اور سرمایہ کاری کے لیے استعمال کرنے کے الزامات بھی سامنے آئے۔ حکام کا کہنا ہے کہ کورونا ریلیف پروگراموں سے متعلق فراڈ کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.