امریکی سپریم کورٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وسط مدتی انتخابات سے قبل ڈاک کے ذریعے ووٹنگ پر پابندیاں عائد کرنے کی کوشش مسترد کردی، جس کے بعد ریاستیں پہلے سے رائج طریقہ کار کے مطابق ووٹرز کو میل بیلٹس جاری کرسکیں گی۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کئی ریاستوں میں وسط مدتی انتخابات کے لیے ڈاک کے ذریعے بیلٹس بھیجے جاچکے ہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ انتظامیہ کی جانب سے رواں سال نئی پابندیاں نافذ کرنے کی کوشش عدالت میں کامیاب ہونے کا امکان کم ہے، تاہم ہنگامی حکم میں اس کی تفصیلی وجوہات بیان نہیں کی گئیں۔ٹرمپ انتظامیہ کی مجوزہ پالیسی کے تحت تمام ریاستوں کو میل بیلٹس کے لیے یکساں لفافے استعمال کرنے اور اہل ووٹرز کی فہرست ایک آن لائن نظام میں جمع کرانے کی پابندی عائد کی جانی تھی۔ عدم تعمیل کی صورت میں امریکی محکمۂ ڈاک کو متعلقہ ریاستوں کے بیلٹس کی ترسیل روکنے کا اختیار دیا جانا تھا۔امریکی حکام اور انتخابی عہدیداروں نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ وسط مدتی انتخابات سے چند ہفتے قبل انتخابی نظام میں اس نوعیت کی بڑی تبدیلی عملی طور پر ممکن نہیں۔ ریاست واشنگٹن، ایریزونا اور یوٹاہ کے انتخابی حکام نے سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے 2026 کے انتخابات معمول کے مطابق اور محفوظ انداز میں جاری رکھنے میں مدد ملے گی۔اس معاملے پر دو ججز، سیموئل ایلیٹو اور کلیرنس تھامس، نے اختلافی رائے دی۔ جسٹس ایلیٹو کے مطابق امریکی محکمۂ ڈاک کو ڈاک کی ترسیل سے متعلق قواعد وضع کرنے کا وسیع اختیار حاصل ہے اور ٹرمپ انتظامیہ کی پابندیاں نافذ کرنے کا اختیار بھی موجود ہوسکتا ہے۔ جسٹس بریٹ کیوناف نے بھی موجودہ وسط مدتی انتخابات کے لیے پابندیاں روکنے کی حمایت کی، تاہم عندیہ دیا کہ مستقبل میں یہی معاملہ دوبارہ سامنے آنے پر وہ انتظامیہ کے مؤقف کے حق میں فیصلہ دے سکتے ہیں۔ٹرمپ طویل عرصے سے ڈاک کے ذریعے ووٹنگ کی مخالفت کرتے رہے ہیں اور 2020 کے صدارتی انتخابات میں اپنی شکست کا بھی غلط طور پر میل ووٹنگ سے تعلق جوڑتے رہے ہیں۔ تاہم 2025 کی بروکنگز انسٹی ٹیوشن کی ایک رپورٹ کے مطابق ہر ایک کروڑ میل بیلٹس میں تقریباً چار کیسز میں فراڈ سامنے آیا۔