امریکی محکمہ انصاف نے 11 افراد کے خلاف ایک دہائی سے زائد عرصے تک ایک ہزار سے زیادہ جعلی شادیاں کرانے کے الزام میں مقدمہ درج کرلیا۔
حکام کے مطابق ملزمان نے زیادہ تر چینی شہریوں کو امریکی امیگریشن حیثیت دلوانے کے لیے امریکی شہریوں سے جعلی شادیاں کرائیں۔ غیر ملکی افراد سے ایک جعلی شادی کے عوض ایک لاکھ ڈالر تک وصول کیے جاتے تھے، جبکہ امریکی شہریوں کو تقریباً 30 ہزار ڈالر تک ادا کیے جاتے تھے۔استغاثہ کے مطابق نیویارک سے چلنے والے اس نیٹ ورک نے 2016 سے جولائی 2026 تک امریکا اور بیرون ملک سیکڑوں گرین کارڈ درخواستیں جعلی معلومات کے ساتھ جمع کرائیں۔ ملزمان شادیوں کو حقیقی ظاہر کرنے کے لیے جعلی تصاویر، مشترکہ بینک اکاؤنٹس، ٹیکس ریٹرنز اور دیگر دستاویزات بھی تیار کرتے تھے۔حکام نے نیویارک کے مختلف علاقوں میں چھاپے مار کر تمام 11 ملزمان کو گرفتار کرلیا۔ ہر ملزم پر شادی اور امیگریشن فراڈ کی سازش سمیت دو الزامات عائد کیے گئے ہیں۔امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ نیٹ ورک کروڑوں ڈالر جمع کرچکا تھا۔ تاہم حکام نے واضح کیا ہے کہ فردِ جرم میں لگائے گئے الزامات ثابت ہونا باقی ہیں اور تمام ملزمان کو عدالت سے جرم ثابت ہونے تک بے گناہ تصور کیا جائے گا۔