امریکا میں سابق صدر جو بائیڈن کے دور کا سیو طلبہ قرض ادائیگی پروگرام یکم جولائی سے باضابطہ طور پر ختم ہوگیا، جس کے بعد 70 لاکھ سے زائد قرض لینے والوں کو 90 دن کے اندر نیا ادائیگی منصوبہ منتخب کرنا ہوگا۔
یہ تبدیلی ٹرمپ انتظامیہ کی نئی پالیسی اور وفاقی عدالت کے فیصلے کے بعد نافذ کی گئی، جس میں سیو پروگرام کو غیر آئینی قرار دیا گیا تھا۔یکم جولائی 2026 سے پہلے قرض لینے والے افراد آمدنی پر مبنی ادائیگی کے دیگر منصوبے، جیسے IBR، PAYE اور ICR اختیار کر سکیں گے، تاہم ان میں سے بعض منصوبے بھی 2028 تک مرحلہ وار ختم کر دیے جائیں گے۔ جبکہ یکم جولائی 2026 کے بعد نئے قرض لینے والوں کے لیے صرف ری پیمنٹ اسسٹنس پلان یا نیا ٹیئرڈ اسٹینڈرڈ ری پیمنٹ پلان دستیاب ہوگا۔ماہرین تعلیم اور مالیاتی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ نئی پالیسی سے طلبہ پر مالی بوجھ بڑھے گا، قرض کی ادائیگی مہنگی ہوگی اور بہت سے نوجوان اعلیٰ تعلیم، خصوصاً ماسٹرز اور قانون کی ڈگری حاصل کرنے کے منصوبوں پر نظرثانی کرنے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔ قرض سروس فراہم کرنے والے اداروں کی سست رفتار اور انتظامی مسائل بھی لاکھوں افراد کے لیے مشکلات پیدا کر سکتے ہیں۔