فل راموس نے پاکستانی نرسوں کے لیے معاہدے کو تاریخی قرار دے دیا
نیویارک اسٹیٹ اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر فل راموس نے اے پی پیک فاونڈیشن اور پاکستان ایجو کیشن انڈوومنٹ فنڈ کے درمیان نرسز کی امریکا میں ملازمت تک رسائی کے لئے طے پائی گئی مفاہمتی یاداشت کو تاریخی قرار دے د یا۔ فل راموس کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ پاکستان اور نیویارک کے درمیان تعلیم و صحت کے شعبے میں مضبوط، مستحکم اور دیر پا شراکت داری کی بنیاد بنے گا۔
فل راموس نے اپنے بیان اے پی پیک فاؤنڈیشن، پاکستان ایجوکیشن اینڈاؤمنٹ فنڈ، حکومتِ پاکستان، ڈاکٹر اعجاز احمد اور اس منصوبے میں کردار ادا کرنے والے تمام افراد کو مبارکباد پیش کی۔انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر اعجاز احمد اوراے پی پیک کے ارکان نے پاکستان اور امریکا کے درمیان ایک اہم پل بنانے میں کردار ادا کیا ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ مفادات کے لیے تعاون کا ذریعہ بن رہا ہے۔ڈپٹی اسپیکر فل راموس کے مطابق انہوں نے نیویارک میں نرسوں کی شدید کمی کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستانی نرسوں کے لیے روزگار پر مبنی ویزا حاصل کرنے کے لیے ایک قانونی اور ذمہ دارانہ راستہ قائم کرنے کی کوشش شروع کی تھی۔ان کا کہنا تھا کہ ایک طرف نیویارک میں تربیت یافتہ نرسنگ پروفیشنلز کی شدید ضرورت ہے، جبکہ دوسری جانب پاکستان میں باصلاحیت، تعلیم یافتہ اور تجربہ کار نرسیں اپنے کیریئر کو آگے بڑھانے کے مواقع کی تلاش میں ہیں۔ دونوں ضروریات کو آپس میں جوڑ کر ایسا شراکت داری کا ماڈل تشکیل دیا جا سکتا ہے جس سے دونوں ممالک کو فائدہ پہنچے گا۔فل راموس نے بتایا کہ پاکستان کے دو دوروں سمیت متعدد ملاقاتوں، مذاکرات، منصوبہ بندی اور تعلقات استوار کرنے کے بعد اس کوشش کے عملی نتائج سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں۔انہوں نے واضح کیا کہ اس منصوبے کا مقصد صرف نرسوں کی بھرتی نہیں بلکہ پاکستانی نرسنگ اداروں کے تعلیمی معیار، اسناد، کلینیکل تربیت اور نصاب کو نیویارک اسٹیٹ کے لائسنسنگ اور پیشہ ورانہ تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا بھی ہے۔ان کے مطابق اس عمل کو شفاف، ذمہ دار اور منصفانہ بنانا ضروری ہے تاکہ پاکستان سے آنے والی نرسیں نیویارک کے ہیلتھ کیئر سسٹم میں کامیابی کے ساتھ خدمات انجام دے سکیں اور انہیں محض خالی آسامیوں کو پُر کرنے والے افراد کے طور پر نہیں بلکہ باصلاحیت اور قابلِ احترام ہیلتھ کیئر پروفیشنلز کے طور پر دیکھا جائے۔فل راموس نے واضح کیا کہ ایم او یو پر دستخط منزل نہیں بلکہ ایک نئے مرحلے کا آغاز ہیں۔ اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب تعلیم، اسناد کی جانچ، لائسنسنگ کی تیاری، امیگریشن قوانین کی پابندی، ملازمت کی فراہمی اور نیویارک پہنچنے والی نرسوں کی معاونت پر مشتمل ایک واضح اور ذمہ دار نظام عملی طور پر قائم کیا جائے گا۔انھوں نےاے پی پیک ، ڈاکٹر اعجاز احمد، حکومتِ پاکستان، تعلیمی اداروں، ہیلتھ کیئر فراہم کرنے والے اداروں اور نیویارک اسٹیٹ کے حکام کے ساتھ مل کر اس معاہدے کو عملی شکل دینے کے عزم کا اظہار کیا۔فل راموس نے کہا کہ جب حکومتیں، تعلیمی ادارے، ہیلتھ کیئر لیڈرز اور کمیونٹیز نیک نیتی سے مل کر کام کریں تو نیویارک اور پاکستان میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے کی ضرورت نہیں، بلکہ دونوں کو فائدہ پہنچایا جاسکتا ہے۔