امریکی محکمہ انصاف نے 17 ایسے افراد کے خلاف وفاقی عدالتوں میں ڈی نیچرلائزیشن کی کارروائیاں شروع کر دی ہیں جن پر سنگین جرائم اور امیگریشن فراڈ کے الزامات ہیں، جن میں جنسی جرائم، منشیات کی اسمگلنگ، ویزا فراڈ اور مالی دھوکہ دہی شامل ہیں۔
محکمہ انصاف کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ جن 17 افراد کے خلاف کارروائی کی گئی ہے ان میں سے کئی پر بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی، فراڈ اسکیمیں، منشیات کی غیر قانونی ترسیل اور امیگریشن دستاویزات میں جعل سازی کے سنگین الزامات ثابت ہو چکے ہیں یا زیرِ سماعت ہیں۔ حکام کے مطابق ان افراد نے شہریت کے عمل کے دوران اپنی مجرمانہ سرگرمیوں کو چھپایا یا غلط بیانات دیے۔محکمہ انصاف کے مطابق یہ کارروائیاں مختلف امریکی ریاستوں کی وفاقی عدالتوں میں دائر کی گئی ہیں اور ان کی تفتیش امیگریشن اور سیکیورٹی اداروں کے اشتراک سے کی گئی۔ حکام نے واضح کیا کہ یہ ایک وسیع تر مہم کا حصہ ہے جس کا مقصد جعلی دستاویزات اور دھوکہ دہی کے ذریعے حاصل کی گئی شہریت کو ختم کرنا ہے۔قانونی ماہرین کے مطابق ان مقدمات میں اگر الزامات ثابت ہو جاتے ہیں تو متعلقہ افراد کی امریکی شہریت منسوخ کر کے انہیں ملک بدری کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔