vosa.tv
Voice of South Asia!

امریکا اور ایران آمنے سامنے، خطے میں کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ گئی

0

امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق امریکی افواج نے جنوبی ایران میں فضائی اور میزائل حملے کیے، جنہیں واشنگٹن نے اپنے ایک جدید اپاچی ہیلی کاپٹر کو گرائے جانے کے بعد "دفاعی اور متناسب ردعمل” قرار دیا ہے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ حملوں میں آبنائے ہرمز کے قریب واقع ایرانی ریڈار اور فضائی دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ ایرانی اور روسی میڈیا کے مطابق ہرمزگان صوبے، بندر عباس، سیریک، جزیرہ قشم اور دیگر ساحلی علاقوں میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے مطابق حملوں میں ایک ٹیلی کمیونیکیشن ٹاور اور دو واٹر ٹینک متاثر ہوئے، تاہم صورتحال قابو میں ہے۔دوسری جانب ایران نے امریکی کارروائی کے جواب میں بحرین میں موجود امریکی پانچویں بحری بیڑے (ففتھ فلیٹ) اور اردن میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ ایرانی فوجی حکام کے مطابق جوابی کارروائی میں ڈرونز اور میزائل استعمال کیے گئے، جبکہ بعض ایرانی اور روسی میڈیا اداروں نے ایک امریکی ایم کیو-9 ڈرون تباہ کیے جانے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔ ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔کشیدگی کے باوجود سفارتی رابطوں کے امکانات برقرار دکھائی دے رہے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف کارروائی ضروری تھی، تاہم ان کے بقول تہران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کی کوششیں متاثر نہیں ہوئیں۔ نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی ایران سے معاہدے کے امکانات برقرار رہنے کا عندیہ دیا ہے۔ دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایران کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے اور خطے میں غیرملکی افواج کی موجودگی کشیدگی میں اضافے کا سبب بن رہی ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.