اسلام آباد میں اہم سفارتی سرگرمیوں کے بعد ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے دوسری ملاقات کے بعد ماسکو پہنچ گئے۔
ایرانی وزیر خارجہ جمعہ کی شب پاکستان آئے تھے اور 24 گھنٹوں کے دوران وزیر اعظم شہباز شریف اور عسکری قیادت سے اہم ملاقاتیں کیں، جس کے بعد وہ مختصر طور پر مسقط بھی گئے اور دوبارہ اسلام آباد پہنچ کر مزید مشاورت مکمل کی۔ایرانی ذرائع کے مطابق اس مختصر مگر اہم دورے میں تہران کی جانب سے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن کی بحالی کے لیے شرائط پیش کی گئیں، جن میں آبنائے ہرمز کے لیے نئے ضابطے، اقتصادی ناکہ بندی کا خاتمہ، نقصانات کا معاوضہ اور عدم جارحیت کا معاہدہ شامل ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ نے ماسکو پہنچ کر میڈیا سے گفتگو میں پاکستان کے دورے کو مفید قرار دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ مذاکرات کے پہلوؤں پر تفصیلی غور کیا گیا۔دوسری جانب امریکی نائب صدر کے متوقع دورہ پاکستان کے سلسلے میں آنے والا امریکی ایڈوانس اور سپورٹنگ عملہ واپس روانہ ہو گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان براہ راست مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کے باعث امریکی لاجسٹک اور سیکیورٹی اسٹاف نور خان ایئر بیس سے اپنے آلات اور گاڑیوں سمیت مختلف پروازوں کے ذریعے واپس چلا گیا۔